کرکٹ اور سٹہ بازی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان ٹوئنٹی ٹوئنٹی فائنل عین اس بال پر ہارا جب بیشتر پاکستانی جواری دونوں ٹیموں کو ہم پلہ اور بعض پاکستان کو برتر قرار دے چکے تھے۔ پاکستان کی فتح پر شرط لگانے والے ان آخری لمحوں میں اپنی رقم سے محروم ہوئے جب وہ جیت کی رقم سے جشن منانے کا سوچ رہے تھے۔ کسی میچ کے بارے میں صیح اندازے لگانے ہوں اور کرکٹ ٹیموں کی صلاحیتوں کو تولنا ہو تو دوران میچ شرطیں لگانے والوں کے درمیان بیٹھ جائیں۔آپ کی ایکسائٹنمٹ کی گنا بڑھ جائے گی، کھیل کے بارے میں ایسے شاندار تبصرے ملیں گے جو شائد دنیا کے بہترین کمنٹریٹرز سے نہ مل سکیں ۔ جب روائتی حریف انڈیا اور پاکستان ایک دوسرے کے سامنے ہوں اور ایک ایک گیند پر ریٹ تبدیل ہورہا ہو، لمحہ لمحہ بعد لوگوں کے لاکھوں کروڑوں ِادھر سے اُدھرہوتے دکھائی دیتے ہوں، تو میچ دیکھنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ بک میکر یا بکیا اسے کہتے ہیں جو لوگوں کی شرطیں بک کرتا ہے اور ہر بدلتی صورتحال پر ریٹ دیتا ہے۔ لاہور کی سٹہ مارکیٹ میں میچ شروع ہونے سے پہلے جو ریٹ کھلا اس کے مطابق پاکستان فیورٹ تھا۔
جو ٹیم فیورٹ ہوتی ہے اس کا ریٹ کم ہوتا ہے اسی لیے پاکستان کا ریٹ محض اسّی پیسے تھا جبکہ انڈیاکی جیت پر ایک روپے لگانے والے کو سوا روپے ملنا تھے۔مطلب یہ کہ میچ شروع ہونے سے پہلے پاکستان کا پلہ بھاری تھا اگرچہ یہ فرق بہت معمولی تھا۔ میچ شروع ہوا تو بتدریج جواریوں کی نظر میں انڈیا مستحکم ہونا شروع ہوا اور بالآخر تیرہویں اوور میں وہ موقع آیا جب انڈیا پہلی بار فیورٹ ہوا۔اس وقت بلے باز یُوراج کریز پر تھے اور چھکے چوکے لگا چکے تھے۔جواریوں نے ریٹ الٹا دئیے، یعنی اتنے ہی معمولی فرق کے ساتھ اب انڈیا فیورٹ ہوا لیکن یہ انڈیا کی عارضی برتری تھی جو اسی اوور میں یُو راج کے آوٹ ہونے پر ختم ہوگئی۔ پہلی اننگز کے خاتمے تک پاکستان کی جیت پر رقم لگانے والے حوصلے میں رہے اور سٹہ مارکیٹ میں پاکستان کا ریٹ بڑھتا چلا گیا اور جب اننگز ختم ہوئی تو پاکستان انڈیا کے مقابلے میں تین گنا فیورٹ تھا۔ دوسری اننگز دونوں ٹیموں کے لیے بدترین اور اعلی ترین ریٹ لیکر آئی۔ انڈیا کے لیے بدترین وقت وہ تھا جب عمران نذیر وکٹ پر تھے اور پاکستان صرف دو وکٹوں کے نقصان پر ترپن رنز بنا چکا تھا۔اس وقت جواریوں میں انڈیا اتنا غیر مقبول ہوا کہ اس پر شرط لگانے والے کو داؤ پر لگائی جانے وا لی رقم کی تین گنا ملنی تھی۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کے ریٹ کی بدترین سطح وہ تھی جب اس پر رقم لگانے والے کو ایک کے مقابلے میں بیس روپے ملنا تھے یعنی داؤ پر لگائی رقم کا بیس گنا۔یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کا ساتواں کھلاڑی کلین بولڈ ہوچکا تھا اور پاکستان کو چوبیس گیندوں پر چون سکور بنانے تھے۔
اس کے بعد اتنی تیز اتار چڑھاؤ آئے کہ بکیوں کو سنبھالنا مشکل ہوگیا۔ایک ہی چھکے کے بعد پاکستان کا ریٹ بیس سے کم ہوکر دس گنا پر آگیا اور مزید پانچ گیندوں کے بعد انڈیا پاکستان جواریوں کی نظر میں برابر ہو چکے تھے۔یہ وہ لمحات تھے جب مصباح نے چھ گیندوں پر چار چکھے لگائے تھے۔ اس کے بعد ہر شاٹ اور ہر بال پر پاکستان اور انڈیا ایک دوسرے سے برتر اور کم تر ہوتے رہے۔اونچ نیچ کی یہ تیز گیم بلآخر آخری اوور تک پہنچی۔ پاکستان کی ایک وکٹ باقی تھی اسے جیتنے کے لیے تیرہ سکور درکار تھے تو انڈیا پاکستان کے مقابلے میں تین گنا زیادہ فیورٹ تھا۔آخری اوور کی دوسری گیند پر مصباح کے چھکے نے بیشترجواریوں کی نظر میں دونوں ٹیموں کو ہم پلہ کردیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب بکیوں کے تمام موبائل اور وائرلیس اور لینڈ لائن ٹیلی فون بار بار بج رہے تھے، تیزی سے شرطیں ادھر سے ادھر لگ رہی تھیں، کروڑوں کے زبانی سودے ہو رہے تھے، جواریوں کے دلوں کی دھڑکن تیز ہوچکی تھی، ہتھیلیوں پر پسینے آنے لگے تھے۔ پھر وہ وقت آیا جب آخری پاکستانی بلے باز بھی آوٹ ہوگیا، پاکستان میچ ہارگیا، بکیوں کے ٹیلی فون خاموش ہوگئے۔ یوں لگا جیسے ہار کے بعد کے ان چند لمحوں کے لیے فون گھنٹیوں کا گلا دبا دیا گیاہو۔ پرانے تجربہ کار شرط بازوں کے لیے ممکن ہے کہ یہ ایک عام ٹورنامنٹ ہو لیکن جواری پرانا ہویا نیا، وہ جیتا ہو یا ہارا ہو۔۔۔۔۔ ایک بات یقینی ہے کہ اس میچ پر رقم لگانے والے کسی بھی شرط باز کو ایک لمبے عرصے تک مصباح کی یہ الٹی شاٹ نہیں بھولے گی۔ | اسی بارے میں پاکستانی کرکٹ میں نئی روح: اشرف24 September, 2007 | کھیل محنت کام آ رہی ہے: عرفان پٹھان24 September, 2007 | کھیل قسمت نے ساتھ نہیں دیا: ملک24 September, 2007 | کھیل انڈیا یا پاکستان، فیصلہ آج ہوگا24 September, 2007 | کھیل انڈیا ٹوئنٹی ٹوئنٹی چیمپیئن24 September, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||