طالبان میں جھڑپ، تین ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کے دو گروپوں کے درمیان لڑائی میں تین افراد ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ ادھرقبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کے مطابق بعض نامعلوم افراد نےایک گاڑی پر راکٹ حملہ کیا ہے جسکے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ مقامی پولیٹکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے کوئی چار کلومیٹر مغرب کی جانب زیڑی نور میں حکومت کے حامی کمانڈر نذیر کے ساتھیوں نے غیر ملکیوں کے حامی کمانڈر رفیع الدین خوجل خیل کے گھر پر دھاوا بول دیا۔ اور گھر کے اندر ہی زبردست فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فائرنگ کے نتیجہ میں تین افراد ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔ہلاک ہونے والوں میں کمانڈر رفیع الدین ان کا بھائی نظام الدین اور ایک چچازاد بھائی شامل ہے۔ حکام کے مطابق زخمیوں میں ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق مارچ دو ہزار سات میں جب حکومت کے حامی کمانڈر نذیر نے غیر ملکیوں ازبکوں کے خلاف وانا میں کارروائی کی تو اس وقت کمانڈر رفیع الدین نے غیر ملکیوں کا ساتھ دیا تھا۔ اور اس کے بعد کے چار مہینوں سے روپوش ہوگے تھے۔ اس کے علاوہ وانا ہی میں خاصہ دار فورس کے کچھ اہلکاروں نے معمولی تلخ کلامی کے بعد ایک دوسرے پر گولیاں چلائیں۔ جس کے نتیجہ میں دو اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں کو وانا سول ہسپتال میں داخل کردیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ دو ہزار سات میں حکومت کے حامی کمانڈر نذیر نے وانا میں ازبکوں کے خلاف کارروائی کی تھی جس میں حکومت کے مطابق دو سو ازبک ہلاک ہوگئے تھے۔اس کارروائی کے بعد بعض مقامی کمانڈر بھی وانا سے فرار ہوگئے تھے۔حکام کے مطابق ان فرار کمانڈروں میں رفیع الدین بھی شامل تھا۔ ادھر قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کے مطابق بعض نامعلوم افراد نےایک گاڑی پر راکٹ حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ مہمند ایجنسی کے تحصیل لکڑو کے تحصیلدار ناصر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کی رات ساڑھے نو بجے محمد گٹ کے علاقے میں بعض نامعلوم افراد نے ایک گاڑی کوراکٹ حملے کا نشانہ بنایا جسکے نتیجے میں گاڑی میں سوار پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔ ان کے بقول راکٹ لگنے کی وجہ سے گاڑی میں آگ لگ گئی جس میں سوار تین افراد کی لاشیں مکمل طور پر جل گئیں جنکی شناخت نہیں ہوپا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دو افراد شدید زخمی حالت میں گاڑی سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سردست یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان افراد کو کیوں حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے دیگر قبائلی علاقوں کی طرح مہمند ایجنسی میں بھی گزشتہ چند ماہ سے مقامی طالبان منطم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں جنہوں نے یکم ستمبر کو گیارہ سکیورٹی اہلکاروں کو اغواء کرلیا تھا۔ان اہلکاروں کو بعد میں جرگے کی کوششوں سے بازیاب کرالیا گیا تھا۔ایک ہفتہ قبل حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان صافی قوم کی توسط سے ایک امن معاہدہ طے پایا تھا۔ | اسی بارے میں ازبک جنگجوؤں کے خلاف فوج تعینات07 April, 2007 | پاکستان وانا میں سبزہ اور مستقبل کا سوال26 April, 2007 | پاکستان نامعلوم افراد کی لاشیں برآمد07 June, 2007 | پاکستان ’ٹی وی پر پابندی، 10ہزار روپے جرمانہ‘18 June, 2007 | پاکستان فوجیوں کی بازیابی میں ناکامی03 September, 2007 | پاکستان فوجیوں کی تلاش بے سود03 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||