BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 September, 2007, 18:33 GMT 23:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کھلی عدالت میں چلایا جائے‘

 اختر مینگل
اختر مینگل نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ جیل میں مقدمہ چلانے کا نوٹیفیکیشن خلاف قانون، غیر آئینی اور امتیازی ہے
بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر اختر مینگل نے سندھ ہائی کورٹ کراچی میں ایک درخواست دائر کی ہے، جس میں انہوں نے انسداد دہشتگردی کے قانون کے تحت جیل کے اندر اپنے اوپر مقدمہ چلانے کے اقدام کو چیلنج کیا ہے اور عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ کھلی عدالت میں ان پر مقدمہ چلانے کا حکم جاری کرے۔

ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اطہر سعید اور جسٹس ندیم اظہر صدیقی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو جوابدہی کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت اٹھارہ ستمبر تک ملتوی کردی ہے۔

اختر مینگل سینئر سیاستدان اور بلوچستان کے پہلے وزیر اعلیٰ سردار عطاء اللہ مینگل کے صاحبزادے ہیں۔ انہیں پچھلے سال ستائیس نومبر کو کراچی کے قریب بلوچستان کے سرحدی شہر حب میں ان کی رہائش گاہ میں نظر بند کردیا گیا تھا جب وہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف گوادر میں لانگ مارچ کی قیادت کرنے جارہے تھے۔

لگ بھگ ایک ماہ بعد چوبیس دسمبر 2006ء کو کراچی پولیس نے انہیں فوجی انٹیلی جنس ایجنسی کے دو اہلکاروں کو اغواء اور جان سے مارنے کی غرض سے تشدد کرنے کے مقدمے میں گرفتار کرلیا۔

یہ مقدمہ کراچی کے درخشاں پولیس سٹیشن میں درج ہے اور جس میں نو دسمبر 2006ء کو انسداد دہشتگردی کی ایک خصوصی عدالت نے ان کے چار محافظوں کو عمر قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی اور خود انہیں مفرور قرار دیا تھا۔
عدالت کے اس فیصلے کے وقت وہ حب میں سرکاری طور پر نظربند تھے۔

گرفتاری کے بعد سے محکمہ داخلہ سندھ کے ایک نوٹیفیکیشن کے تحت کراچی سینٹرل جیل کے اندر ان پر مقدمہ چلایا جارہا ہے تاہم ان کے اہل خانہ کو جیل میں ان سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

اختر مینگل کے چچا
اختر مینگل کے چچا

اس سال کے شروع میں حکومت سندھ نے انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے ایک نمائندے کو جیل کے اندر مقدمے کی کارروائی میں بیٹھنے کی اجازت دی تھی تاہم بعد میں یہ اجازت بھی اُس وقت واپس لے لی گئی جب جیل کے اندر مقدمے کی پہلی سماعت میں شرکت کرنے کے بعد کمیشن کے سیکریٹری جنرل اقبال حیدر نے انکشاف کیا کہ اختر مینگل کو عدالت میں فولادی پنجرے میں بند کرکے رکھا جاتا ہے اور وکیل کے ساتھ بیٹھنے نہیں دیا جاتا۔

ان کے اس بیان کی حکومت سندھ کے ترجمان نے تردید کی تھی اور کہا تھا کہ پولیس اور محکمہ داخلہ کی درخواست پر اختر مینگل پر جیل کے اندر مقدمہ چلایا جا رہا ہے جس کا مقصد ان کی جان کی حفاظت ہے کیونکہ ان کی پرانی دشمنیاں ہیں۔

اختر مینگل نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ جیل میں مقدمہ چلانے کا نوٹیفیکیشن خلاف قانون، غیر آئینی اور امتیازی ہے کیونکہ اس سے قبل ان کے ساتھی ملزمان پر کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا ہے۔

درخواست گذار نے انسداد دہشتگردی کے قانون کے آرٹیکل 15 (2) کو بھی چیلنج کیا ہے جس کے تحت حکومت سندھ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ملزم پر کہیں بھی مقدمہ چلواسکتی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ یہ آرٹیکل آزاد عدلیہ کے اصول کے خلاف ہے جس کے تحت عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ کیا گیا لہذا عدالت اسے کالعدم قرار دے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد