عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور |  |
 | | | طالبان نے اپنے ساتھی کی رہائی کے بدلے سکیورٹی فورسز کے چار اہلکاروں کو آزاد کردیا |
قبائلی علاقے باجوڑ میں چند روز قبل ہونے والے خودکش حملے کے بعد پہلی مرتبہ تقریباً ساڑھے تین سو مقامی علماء کا ایک جرگہ منعقد ہوا ہے جس میں طالبان کے ساتھ بات چیت کرنےکے لیے ایک ساٹھ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ دوسری طرف مبینہ طالبان نے اپنے ایک ساتھی کی رہائی کے بدلے سکیورٹی فورسز کے چار اہلکاروں کو آزاد کردیا ہے۔ باجوڑ کے صدرمقام خار میں منگل کو ہونے والے مقامی دینی علماء کے جرگے میں ایجنسی کی آٹھ تحصیلوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً ساڑھے تین سو دینی علماء نے شرکت کی جس میں ایجنسی میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بحث کی گئی۔ جرگے میں سنیٹر عبدالرشید کی سربراہی میں تقریباً ساٹھ علماء پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی کےسربراہ سینیٹر عبدالرشید نے بی بی سی کو بتایا کہ علماء کی کمیٹی باجوڑ میں گزشتہ دنوں ہونے والے خودکش حملوں، بم دھماکوں، اغواء اور چیک پوسٹوں پر راکٹ حملوں کے سلسلے میں مقامی طالبان سے بات چیت کرےگی۔ان کے بقول کمیٹی منگل ہی کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے روانہ ہو رہی ہے اور چھ ستمبر کو ہونے والے دینی علماء اور قبائلی عمائدین کےمشترکہ گرینڈ جرگے کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
 | دینی علماء کی شراکت  قبائلی مشران پہلے ہی سے امن و امان کی بحالی اور حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے پر عملدرآمد کروانے کے لیے سرگرم ہے لیکن اب مقامی طالبان پر مؤثر طور پر اثر انداز ہونے کے لیےعلاقے کے دینی علماء کو اس عمل میں شریک کرنے کی حکمت عملی اپنائی گئی ہے  سینیٹر عبدالرشید |
سینیٹر عبدالرشید کا مزید کہنا تھا کہ جرگے کے ارکان نے چند دن قبل ماموند میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کی جوابی فائرنگ میں تین عام شہریوں کی ہلاکت پر بھی بحث کی اور جرگے میں موجود پولٹیکل ایجنٹ اور دیگر حکام سے متفقہ طور پر یہ مطالبہ کیا گیا کہ آئندہ اس قسم کے واقعات میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے۔ان کے مطابق باجوڑ کے ایک سو تیس قبائلی مشران پہلے ہی سے امن و امان کی بحالی اور حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے پر عملدرآمد کروانے کے لیے سرگرم ہے لیکن اب مقامی طالبان پر مؤثر طور پر اثر انداز ہونے کے لیےعلاقے کے دینی علماء کو اس عمل میں شریک کرنے کی حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔ دوسری طرف باجوڑ میں ایک پولٹیکل اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مبینہ طالبان نے تقریباً چالیس روز قبل اغواء کیے گئے سکیورٹی فورسز کے چار اہلکاروں کو اپنے ایک ساتھی کی رہائی کے بدلے میں پیر کی رات آزاد کر دیا ہے۔ ایک اور واقعے میں حکام کے مطابق تحصیل ناوگئی میں واقع ایک سرکاری کالونی پر پیر کی شب نامعلوم مقام سے تقریباً سات مارٹر گولے فائر کیے گئے جن میں سے ایک گولہ ملکانہ گاؤں میں محمود نامی شخص کے گھر کے اندر گرنے کے نتیجے میں ان کے پانچ بچے شدید زخمی ہوگئے ہیں۔ان کے بقول زخمی بچوں کو سول ہسپتال خار منتقل کردیا گیا ہے اور انک ی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ تحصیل خار کے علاقے تراکئی میں بھی نامعلوم افراد نے سکیورٹی فورسز کے ایک چیک پوسٹ کوتباہ کردیا ہے تاہم کسی قسم کی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
|