BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 September, 2007, 10:09 GMT 15:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
منہدم پل، تعمیراتی ریکارڈ سربمہر

منہدم پل
اتوار کی شام سے ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا جائے گا
وزیراعظم پاکستان شوکت عزیز کی جانب سے کراچی میں حال ہی میں تعمیر ہونے والے ناردرن بائی پاس کے پل کا ایک بڑا حصہ زمیں بوس ہونے کے واقعہ کی تحقیقات کے حکم کے بعد اس منصوبے کا تمام ریکارڈ سربمہر کر دیا گیا ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر منجمینٹ اتھارٹی کے کوآرڈینیٹر برائے سندھ شوکت نواز طاہر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان کے ادارے نے وزیراعظم کی ہدایات کے تحت فوری طور پر ناردرن بائی پاس کے منصوبے کا تمام ریکارڈ سربمہر کروا دیا ہے اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور وزارت داخلہ سے سفارش کی ہے کہ اس منصوبے میں شامل تمام متعلقہ اور مشتبہ افراد کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کردیا جائے تاکہ وہ ملک سے فرار نہ ہوسکیں۔

سنیچر کے روز گرنے والے ناردرن بائی پاس پل کے معائنہ کے لیے ماہرین کی مختلف ٹیمیں اتوار کے روز جائے حادثہ پر پہنچ کر پل گرنے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے معائنہ کر رہی ہیں۔ نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے علاوہ وفاقی وزارت مواصلات نے بھی اس حوالے سے ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔

سنیچر کی رات گئے تک جاری رہنے والی امدادی کارروائی کے دوران پھنسی ہوئی دو کاروں سے تین لاشیں برآمد کر لی گئیں جبکہ پل سے گرنے والی کئی گاڑیوں کو کرینوں کی مدد سے جائے حادثہ سے ہٹا دیا گیا۔

ایس پی سائٹ سہیل ظفر چٹھہ نے چھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے اتوار کو بی بی سی کو بتایا کہ حادثہ میں ہلاک ہونے والوں کے نام علی محمد، صادق فیض، موسٰی عارب، رضوان، شہزاد بخش ہیں جبکہ ایک شخص کی شناخت نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ اس حادثہ میں چودہ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں دو خواتین اور ایک بارہ سالہ بچی شامل ہیں۔

ڈی آئی جی کراچی ویسٹ زون فلک خورشید نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ امدادی کارروائی کا سلسلہ مکمل ہو چکا ہے اور اتوار کی صبح سے معائنہ کار ٹیمیں جائے حادثہ کا معائنہ کر رہی ہیں جو امید ہے کہ شام تک مکمل ہو جائے گا جس کے بعد ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا جائے گا۔

پھنسی ہوئی دو کاروں سے تین لاشیں برآمد کر لی گئیں

انہوں نے بتایا کہ ملبہ کو ہٹانے کے لیے بھاری مشینری جائے حاثہ پر پہنچنا شروع ہوگئی ہے اور منہدم شدہ حصہ کو مختلف حصوں میں توڑ کر ملبہ کو ہٹایا جائے گا کیونکہ اتنا پل کا منہدم شدہ حصہ بہت وزنی ہے جس کو کرینوں کی مدد سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔

اس سے قبل کراچی میں سنیچر کی دوپہر ناردرن بائی پاس پل کا ایک حصہ منہدم ہو نے سے چھ افراد کی ہلاکت کے بعد نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چار افسران کو معطل کر دیا گیا۔

وفاقی وزیر برائے مواصلات شمیم صدیقی نے ہفتہ کی رات گئے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کروائی جائیں گی لیکن فوری اقدام کے طور پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے جنرل مینیجر کنسٹرکشن، جنرل مینیجر پراجیکٹ، جنرل مینیجر ڈیزائن اور ایک پراجیکٹ ڈائریکٹر کو معطل کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ فوجی کمپنی نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) کے پاس اس پل کو تعمیر کرنے کا کنٹریکٹ تھا جسے بلیک لسٹ کردیا گیا ہے جبکہ ڈیزائن کنسلٹنٹ کو بھی بلیک لسٹ قرار دے دیا گیا ہے۔

نادرن بائی پاس کراچی کے میگا پراجیکٹس میں سےایک ہے جس کا اسی سال اگست میں صدر پرویز مشرف نے افتتاح کیا تھا۔ اس پل کی تعمیر پر ساڑھے تین ارب روپے لاگت آئی تھی۔ یہ پل شہر میں ٹریفک کے مسائل سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا تھا اور ٹریفک کے حالیہ مسئلے کے بعد شہر میں بھاری ٹریفک کی آمد پر پابندی عائد کر کے انہیں نادرن بائی پاس سے گزرنے کا پابند کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
شِپنگ: آتشزدگی کی تحقیقات
20 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد