BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 August, 2007, 01:48 GMT 06:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نوٹ:ہلال اورستارہ حفاظتی علامت‘

کرنسی نوٹ
کرنسی نوٹ کے سامنے والے حصے پر چھپے پرچم کا رنگ سرخ ہے جو کہ ترکی کے پرچم سے مشابہت رکھتا ہے

پاکستان کے مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ ایک ہزار روپے کی مالیت کے نوٹ پر طبع شدہ ہلال اور پانچ کونوں والا ستارہ صرف جدید ترین حفاظتی علامت ہے اور نوٹ پر موجود اس جدید حفاظتی علامت کے حامل ڈیزائن کی رنگت نوٹ کو مختلف زاویوں سے دیکھنے پر تبدیل ہوتی ہے۔

گزشتہ روز قومی اسمبلی کے سپیکر نے ایک ہزار کے کرنسی نوٹ پر پاکستان کے بجائے ترکی کے قومی پرچم کی چھپائی کے معاملے کی تحقیقات کی ہدایت جاری کی تھی۔

سٹیٹ بینک کے ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ جدید حفاظتی علامت کرنسی کی جعل سازی کی روک تھام میں موثر کردار ادا کر رہی ہے اور اس حفاظتی علامت کی بدولت عوام بھاری مالیت کے اصل نوٹ با آسانی شناخت
کر سکتے ہیں۔

 ایک ہزار کے کرنسی نوٹ پر پاکستان کے بجائے ترکی کے قومی پرچم کی چھپائی کی نشاندہی حکومتی رکن قومی اسمبلی رشید اکبر نے کی تھی۔ ان کا کہنا تھاکہ اس کرنسی نوٹ کے سامنے والے حصے پر چھپے پرچم کا رنگ سرخ ہے جو کہ ترکی کا پرچم ہے اور یہ پاکستان کے سبز ہلالی پرچم سے کسی طور مشابہت نہیں رکھتا

مرکزی بینک نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سٹیٹ بینک ایکٹ 1956 کے تحت بینک نوٹوں کے ڈیزائن، شکل اور ان میں استعمال کیے جانے والے میٹریل کی منظوری وفاقی حکومت اور کابینہ کی ذیلی کمیٹی دیتی ہے۔

واضح رہے کہ کرنسی نوٹ پر اس غلطی کی نشاندہی حکومتی رکن قومی اسمبلی رشید اکبر نے بدھ کو اجلاس کی کارروائی کے دوران کی تھی۔ خارجہ پالیسی پر جاری بحث کے دوران حکومتی رکن نے نکتہ اعتراض پر ایوان کی توجہ ایک ہزار کے نئے کرنسی نوٹ پر چھپے پرچم کی جانب دلواتے ہوئے کہا کہ اس کرنسی نوٹ کے سامنے والے حصے پر چھپے پرچم کا رنگ سرخ ہے جو کہ ترکی کا پرچم ہے اور یہ پاکستان کے سبز ہلالی پرچم سے کسی طور مشابہت نہیں رکھتا۔

خزانے کے وزیر مملکت عمر ایوب خان نے اس نکتہ اعتراض کے جواب میں کہا کہ وہ یہ معاملہ سٹیٹ بنک کے علم میں لائیں گے۔ سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین نے اس موقع پر اپنی آبزرویشن دیتے ہوئے کہا:’ یہ بہت اہم معاملہ ہے اور وزیر موصوف حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں اور سٹیٹ بنک حکومت کے قواعد کے تابع ہے لہذٰا اس معاملے کا صرف علم میں لانا کافی نہیں ہے‘۔

سپیکر نے کہا کہ وہ اسی سے متعلق ایک اور معاملے کو بھی وزیر خزانہ کے نوٹس میں لانا چاہتے ہیں اور وہ یہ کہ سٹیٹ بنک کی جانب سے کرنسی نوٹ پر پن لگانے پر پابندی کے باعث اب نوٹوں کی گڈی پر ایک ربڑ باندھا جاتا ہے جس کی وجہ سے بنک سے آنے والی نوٹوں کی گڈی سے ایک آدھ نوٹ کم ہونے کی شکایت عام ہوگئی ہے۔

عمر ایوب کا کہنا تھا کہ پرچم کے رنگ والا معاملہ حکومت کے علم میں پہلے سے ہے اور اس بارے میں سٹیٹ بنک سے استفسار کیا جا چکا ہے۔ حزب اختلاف کے رکن پرویز ملک نے وزیر خزانہ کے بیان پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ نوٹ کے ڈیزائن کی منظوری کابینہ اور پھر وزیراعظم نے دی تھی لہذٰا اس معاملے کا الزام صرف سٹیٹ بینک کو نہیں دیا جا سکتا۔

سپیکر نے کہاکہ معاملہ خاصہ پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے اس لیے بہتر یہی ہے کہ اس کی مکمل تحقیقات کروائی جائیں۔ عمر ایوب کی جانب سے مخالفت نہ کیے جانے پر سپیکر نے یہ معاملہ ایوان کی قائمہ کمیٹی کے سپرد کرتے ہوئے اسے مکمل تحقیقات کر کے ایک ماہ میں رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

اسی بارے میں
بیس روپے کا نوٹ کہاں گیا؟
24 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد