بابر حتف ہفتم کا کامیاب تجربہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فوجی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے جمعرات کو جوہری ہتھیار لے جانے والے ایک کروز میزائل بابر حتف ہفتم کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ میزائل سات سو کلومیٹر (چار سو پینتیس میل) کے فاصلے تک ہدف کو نشانہ بناسکتا ہے۔ یہ میزائل نیوکلیائی اور غیر نیوکلیائی دونوں قسم کے جنگی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال مارچ میں بھی اس میزائل کا ایک تجربہ کیا گیا تھا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نام نہ ظاہر کرنےکی شرط پر ایک افسر نے بتایا کہ یہ ایک کامیاب تجربہ تھا۔ بابر حتف VII کا ریڈار سے بھی پتہ نہیں لگایا جا سکے گا۔ اس میزائل کا پہلا تجربہ 2005 میں کیا گیا تھا۔ اس کے بعد میزائل کی اپنے ہدف کو نشانہ بنانےکی صلاحیت میں 500 سے 700 کلو میٹر تک کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود کہ 2004 کے اوائل میں پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کے عمل کا آغاز ہوگیا تھا تاہم جوہری صلاحیت کے حامل پاکستان اور بھارت معمول کے مطابق میزائلوں کے تجربات کرتے رہتے ہیں اور دونوں ممالک اس بات پر بھی رضامندی ظاہر کرچکے ہیں کہ وہ اس قسم کے تجربات سے قبل ایک دوسرے کو خبردار کریں گے۔ 1998 میں پاکستان اور بھارت نے یکے بعد دیگرے جوہری ہتھیاروں کے تجربات کیے تھے۔ | اسی بارے میں میزائیل حتف IV کا کامیاب تجربہ29 November, 2006 | پاکستان میزائیل حتف 5 کا کامیاب تجربہ16 November, 2006 | پاکستان ابدالی میزائیل’ حتف دو‘ کا تجربہ31 March, 2005 | پاکستان حتف پانچ میزائیل کا تجربہ12 October, 2004 | پاکستان حتف تین کا کامیاب تجربہ09 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||