پی ایس او نجکاری، حکم امتناعی جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک کی سب سے بڑی اور سرکاری پٹرولیم کمپنی پاکستان سٹیٹ آئل کی نجکاری کے خلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے پرائیویٹائزیشن (نجکاری) کمیشن سے اس سے متعلقہ تمام ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ ایک نجی پٹرولیم کمپنی اٹک آئل کے وکیل خالد انور نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالت نے ان کی استدعا منظور کرتے ہوئے عبوری حکم کے ذریعے نجکاری کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ پی ایس او کی نجکاری کے حوالے سے کوئی مزید قدم نہ اٹھایا جائے۔ حکم امتناعی جاری کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال ہیں جبکہ جسٹس فلک شیر اور جسٹس عبدالحمید ڈوگر اس کے ارکان ہیں۔ اب اس مقدمے کی سماعت اگست کے آخری ہفتے میں کی جائیگی۔ اٹک آئل پی ایس او کی خریداری میں دلچسپی رکھتی ہے، لیکن نجکاری کمیشن نے بعض ’تکنیکی وجوہات‘ کی بناء پر اٹک آئل کو نجکاری کے عمل میں شامل نہیں کیا۔ سندھ ہائی کورٹ نے اٹک آئل کی پی ایس او کی نجکاری میں شمولیت کی استدعا مسترد کر دی تھی۔ حکومت کو توقع ہے کہ وہ پی ایس او میں اپنے 54 میں سے 51 فیصد حصص پچاس کروڑ ڈالر میں فروخت کر لے گی، جس سے قرضوں کی ادائیگی میں مدد ملے گی۔ |
اسی بارے میں پی ایس او: نجکاری کا ریکارڈ طلب25 June, 2007 | پاکستان پاکستان: تیل کی قیمت میں کمی15 January, 2007 | پاکستان پیٹرول کی گرانی پر پہلا قتل01 May, 2006 | پاکستان تیل کی تلاش کیلیے کنسورشیم کا قیام23 December, 2005 | پاکستان پیٹرول کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ 30 September, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||