BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 24 June, 2007, 12:06 GMT 17:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حملہ پاک فوج کے تعاون سے کیا: نیٹو
نیٹو افواج
’نیٹو افواج نے مغالطے میں پاکستانی سرحد بھی عبور کی‘
افغانستان میں سرگرمِ عمل نیٹو افواج کے مطابق سنیچر کو پاکستانی حدود میں ہونے والا حملہ پاکستانی فوج کے تعاون سے کیا گیا تھا جبکہ پاکستانی فوج کے ترجمان نے اس بیان کی تردید کی ہے۔

ایساف کے ترجمان میجر جان ٹامس کے مطابق حملہ پاکستانی فوج کے تعاون سے کیا گیا اور پاک فوج اس حملے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تحقیقات میں بھی شامل رہی ہے۔

تاہم آئی ایس پی ار کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے اس بیان کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کے حوالے سے پاک فوج اور نیٹو افواج میں کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا۔ بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے میجر جنرل وحید ارشد کا کہنا تھا ’ کوارڈینیشن اس وقت ہوتی ہے جب طے ہو کہ کس ملک نے کیا کرنا ہے۔ یہ حملہ کوارڈینیٹڈ نہیں تھا اور میں اس پر زیادہ تبصرہ نہیں کرنا چاہتا‘۔

نیٹو کی ’ایساف‘ فورس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ حملہ نیٹو کی جانب سے کیا گیا تھا اور اس کا نشانہ پاکستانی سرحد کے نزدیک حملے کی تیاریاں کرنے والے شدت پسند تھے۔ ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’نیٹو افواج نے مغالطے میں سرحد بھی عبور کی کیونکہ ہم جن شدت پسندوں کا تعاقب کر رہے تھے وہ متحرک تھے۔ اس مقام پر سرحد پر کوئی واضح نشانی نہیں اور آپ فوراً نہیں بتا سکتے کہ آپ دوسرے ملک کی حدود میں داخل ہو چکے ہیں‘۔

ایساف کے مطابق اس حملے میں ساٹھ کے قریب شدت پسند ہلاک ہوئے اور بعد ازاں تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ مرنے والوں میں عام شہری بھی شامل تھے۔ایساف کے ترجمان کا کہنا تھا’ ہماری اطلاع کے مطابق ہمارے ایک ہتھیار کا نشانہ ایک ایسا گھر بنا جس میں ممکنہ طور پر عام شہری موجود تھے اور یہ عمارت کوئی گھر یا ہوٹل ہو سکتی ہے۔ ہمیں معصوم جانوں کے زیاں پر افسوس ہے اور ہم متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں‘۔

ایساف کے ایک پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مشتبہ شدت پسند مسلح تھے اور انہوں نے اپنے ہتھیار ہمارے طیاروں کو نشانہ بنانے اور ہماری پوزیشنوں پر راکٹ داغنے میں استعمال کیے۔ ان کی حرکات سے ایسے اشارے بھی ملے کہ وہ برمل کے عوام اور سکیورٹی افواج کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ سنیچر کو جنوبی وزیرستان میں پولیٹیکل انتظامیہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ امریکی جہازوں نے وانا سے قریباً پینتیس کلومیٹر دور مغرب کی جانب تور ژاور میں ایک آبادی پر بمباری کی ہے جس کے نتیجہ میں بیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں کا تعلق احمد زئی وزیر قبائل کے ذیلی قبیلے گنگی خیل سے تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد