عزیزاللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ |  |
 | | | صحافی تنظیمیں میڈیا پر پابندی کے خلاف جمعرات کو یومِ سیاہ منا رہی ہیں |
پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی نے تمام سیاسی جماعتوں کو ذرائع ابلاغ پر پابندیوں اور صدارتی ریفرنس کے خلاف ملک بھر میں دو روز کے لیے مکمل ہڑتال کرنے کی تجویز دی ہے۔ کوئٹہ پریس کلب میں ایک اخباری کانفرنس نے خطاب کرتے ہوئے پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ یہ ہڑتال ایک ساتھ دو دنوں کے لیے یا علیحدہ علیحدہ دنوں کے لیے کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے دنیا بھر کو یہ پیغام دیا جائے گا کہ پاکستان کے عوام موجودہ حکومت کی جانب سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر عائد کی گئی پابندیوں کے خلاف ہیں۔ محمود خان نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں چار نکات پر متحد ہیں جن پر بات چیت بھی ہو چکی ہے اور اب آل پارٹیز کانفرنس میں اس بارے میں ایک لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان چار نکات میں ایک یہ تھا کہ پاکستان کا آئین بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کی پوزیشن پر بحال ہو، دوسرا یہ کہ ایک عبوری حکومت قائم کی جائے جو تمام جماعتوں کو قبول ہو اور جس کا سربراہ وہ جج ہو جس نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھایا ہو، تیسرا یہ کہ آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن اور چوتھا نکتہ انتخابات کا انعقاد تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان نکات پر نوے فیصد جماعتیں متفق تھیں۔ محمود خان نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری جب کبھی بھی کوئٹہ آئے تو ان کی جماعت ان کا شاندار استقبال کرے گی۔ اس کے علاوہ بدھ کے روز کوئٹہ میں الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ صحافیوں نے زرائع ابلاغ پر پابندیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ وکلاء اور سیاستدانوں نے بھی اس مظاہرے میں شرکت کی ہے اور حکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی کی گئی ہے۔
|