تربت: ڈیم متاثرین کا مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے شہر تربت میں میرانی ڈیم منصوبے کے متاثرین نے جمعہ کواحتجاجی مظاہرہ کیا۔ پولیس نے اٹھائیس مظاہرین کو حراست میں لیا لیکن کچھ دیر بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔ مکران ڈویژن کے شہر تربت میں جمعہ کو کاروباری مراکز اور دکانیں بند ہیں جبکہ مظاہرین نے احتجاجی مظاہرے کے دوران شدید نعرہ بازی کی ہے۔ پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور اٹھائیس افراد کو حراست میں لیا لیکن کچھ دیر تھانے میں رکھنے کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔ تربت کے پولیس افسر عمران محمود کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے توڑ پھوڑ اور دکانیں زبردستی بند کرانے کی کوشش کی انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر دکانیں بند نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن یہ لوگ انہیں مجبور کر رہے تھے۔ میرانی ڈیم کے متاثرین کوئی ایک ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں۔ان کا مطالبہ ہے کہ انہیں نقصانات کا معاوضہ دیا جائے۔ اکبر نامی شخص نے کہا ہے کہ تین یونین کونسلز کے لوگوں کو شدید خطرے لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک بارش ہوئی تو پانی ان کے گھروں میں آ سکتا ہے لیکن فنڈز کی فراہمی کے باوجود ضلعی انتظامیہ انہیں رقم فراہم نہیں کر رہی۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ سود کی رقم کھانے کے لیے تاخیر کی جا رہی ہے۔ تربت کے ضلعی رابطہ افسرحافظ محمد طاہر نے اس الزام کو رد کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے فنڈز مہیا کر دیے ہیں اور صرف سرکاری کارروائی باقی ہے جس کے بعد متاثرین کو معاوضہ ادا کر دیا جائے گا۔ میرانی ڈیم کا منصوبہ مکران ڈویزن میں پانی کی فراہمی کے لیے دو ہزار ایک میں شروع کیا گیا جس پر کوئی چھ ارب روپے لاگت آئی ہے۔ میرانی ڈیم صدر جنرل پرویز مشرف کے ان منصوبوں میں شامل ہے جو بلوچستان میں شروع کیے گئے ہیں اور جن کا ذکر بلوچستان میں ترقی کے حوالے سے ہر تقریر میں کیا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں سونمیانی بندرگاہ کی تجویز مسترد24 May, 2007 | پاکستان بلوچستان: مظاہرے، چار رہنما گرفتار21 May, 2007 | پاکستان ’مجھے حراست میں رکھا گیا‘25 April, 2007 | پاکستان قبائلی تنازعات، دس اضلاع متاثر18 April, 2007 | پاکستان گوادر: مشرف کے دورے پر ہڑتال 16 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||