مسیحی برادری کو دھمکی، دو گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع چارسدہ میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مسیحی برادری کو تقریباً بائیس روز قبل دھمکی آمیز خط بھیجنے کے الزام میں دو طالبعلوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ نامعلوم افراد کی جانب سے بھیجے گئے اس خط میں عیسائی برادری کو دھمکی دی گئی تھی کہ وہ دس دن کے اندر اسلام قبول کرے یا علاقہ چھوڑدیں۔ چارسدہ پولیس کے سربراہ فیروز شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے نویں جماعت کے طالبعلم چودہ سالہ ابوالحسنات اور دسویں جماعت میں زیرتعلیم پندرہ سالہ عبدالرشید کو جمعرات کی صبح حراست میں لیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دونوں لڑکوں نے اعتراف کیا ہے کہ ان کا محلے میں راحیل اور شانی نامی دو عیسائی لڑکوں کے ساتھ کسی بات پر جھگڑا ہوا اور انہوں نے انتقاماًمسیحی برادری کو دھمکی آمیزخط بھیج دیا تھا۔ جب اس بارے میں چارسدہ میں عیسائی برادری کے نمائندے سلیم چودھدری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے عیسائی لڑکے کے گھر والوں کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا کہ راحیل نے حراست میں لیے جانے والے دونوں لڑکوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے جھگڑے سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے بھی بتایا کہ دھمکی آمیز خط راحیل اور شانی کے گھروں میں نہیں ہے بلکہ مائیکل نامی ایک شخص کے گھرمیں پھینکا گیا تھا۔ چند روز قبل بھی پولیس نے عیسائیوں کے خلاف دیوار پر دھمکی آمیز نعرے لکھنے کے الزام میں جمشید نامی ایک طالبعلم کو گرفتار کیا تھا جسے بعد میں پولیس کے مطابق عیسائی کمیونٹی کے کہنے پر رہا کردیا گیا۔ واضح رہے کہ خطوط ملنے کے بعد کئی عیسائی خاندانوں نے علاقے سے نقل مکانی کی ہے اور بعض افراد نے کسی بھی ممکنہ بے حرمتی کی خوف سے خواتین کو دوسرے شہروں میں اپنے رشتہ داروں کے ہاں بھیج دیا تھا۔ |
اسی بارے میں چارسدہ: سی ڈیز ایک اور دکان نشانہ21 May, 2007 | پاکستان چارسدہ: مسیحوں میں خوف و ہراس25 May, 2007 | پاکستان چارسدہ: عیسائیوں کی نقل مکانی25 May, 2007 | پاکستان فلموں کی دکانوں پر بم دھماکے10 May, 2007 | پاکستان اسلام قبول کرو ورنہ۔۔: نامعلوم خط09 May, 2007 | پاکستان مردان: لڑکیوں کے سکول میں دھماکہ11 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||