حماد قتل، کراچی تشدد، حکومتی کمزوریاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنیچر کو ختم ہونے والے ہفتے میں حکومت اور حزب مخالف کے سیاسی وزن کو اگر تولا جائے تو حزب مخالف کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے کراچی بار سے خطاب کے لیے پہنچنے پر بارہ مئی کے پرتشدد اور جان لیوا واقعات سے حکومت کا درد سر ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار کے بہیمانہ قتل نے صدر جنرل پرویز مشرف اور ان کے حامیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا۔ کراچی کے پرتشدد واقعات جن میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس پر حزب مخالف کا پارلیمان کے اندر اور باہر احتجاج جاری رہا۔ ہفتہ بھر جہاں حزب مخالف نے کراچی واقعات کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے پارلیمان کی کارروائی چلنے نہیں دی اور پارلیمان مفلوج ہوکر رہ گیا وہاں کراچی سمیت مختلف شہروں میں ہڑتال اور احتجاج کی وجہ سے کاروبار زندگی بھی بری طرح متاثر ہوا۔ سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار حماد رضا کو چار نامعلوم افراد نے گھر میں گھس کر نیند سے جگا کر موت کی نیند سلا دیا۔ اس واقعہ نے جہاں اسلام آباد کی شہری زندگی کو خوف کی چادر میں لپیٹ لیا ہے وہاں کئی سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔
حماد رضا کے قتل پر ان کے اہل خانہ چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ یہ ’ٹارگٹ کلنگ‘ ہے اور انہوں نے قتل کے تانے بانے عدالتی بحران سے جوڑے ہیں لیکن واقعہ کے فوراً بعد پولیس اور وزیر داخلہ سمیت دوسرے حکام کہتے ہیں کہ حماد رضا کا قتل ڈکیتی کی ایک واردات کا نتیجہ ہے۔ حماد رضا کے قتل کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت سپریم کورٹ کے تمام جج ان کی رہائش گاہ پر پہنچے اور مقتول کے غم زدہ اہل خانہ کو انصاف کی یقین دہانی کروائی اور اس قتل کو ایک حساس اور غیر معمولی واقعہ قرار دیا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء نے کہا کہ حماد رضا صدارتی ریفرنس میں ان کے ایک اہم گواہ تھے۔ حکومت کی جانب سے حماد کے قتل کو تحقیقات سے قبل ڈکیتی کی واردات قرار دینا اور وزیراعظم کی جانب سے ڈسٹرکٹ اور سیشن جج کو عدالتی تحقیقات پر مامور کرنے پر بھی کئی سوالات اٹھے۔ سپریم کورٹ نے اس کا نوٹس لیا اور حکومت سے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا کوئی جج اس کی تحقیقات کرے۔ بظاہر تو عدالت عظمیٰ نے بروقت مداخلت کرکے اچھا کیا لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ ہوتا کیا ہے۔ سپریم کورٹ بار میں بعض وکلاء کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا گیا کہ مقتول ایڈیشنل رجسٹرار چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے انتہائی قریبی اور بااعتماد افسر تھے۔ ان کے اچانک قتل سے کس کو فائدہ ہوسکتا ہے؟۔ اس بارے میں بھی طرح طرح کی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں اور آگے چل کر شاید یہ قتل بہت ساروں کے گلے کی ہڈی بھی بن سکتا ہے۔
حسب معمول پولیس انتظامیہ نے اس بار بھی اسلام آباد کے طالبان کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے مذاکرات کو ترجیح دی اور کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر مک مکا کرلی۔ چند ہفتے قبل لال مسجد کے امام کے حکم پر طلباء نے دو پولیس اہلکاروں کو سرکاری گاڑیوں سمیت یرغمال بنایا تھا اور اپنے مدرسے کی قید خواتین اساتذہ کی رہائی کے بدلے انہیں چھوڑا تھا۔ سول سوسائٹی کی تنظیموں کے نمائندے ’اسلام آباد کے طالبان‘ کی جانب سے پولیس اہلکاروں کے اغواء کو بلوچستان اور وزیرستان میں حکومتی رِٹ قائم کرنے کے جوش میں فضائیہ سے بمباری اور زمینی افواج سے اپنے ہی شہریوں کے خلاف آپریشن کرنے والوں کے منہ پر ایک طمانچہ قرار دے رہے ہیں۔
آخر میں ذکر صدر جنرل پرویز مشرف کے ’آج‘ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو کا جس میں پہلی بار وہ بظاہر ’ویک وکٹ‘ پر لگے اور انہوں نے اپنے اقتدار کی خاطر ماورائے آئین اقدامات کا بھی اعلان کیا۔ صدر نے خود کو اردو بولنے والا کہتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کا بارہ مئی کو کراچی میں پرتشدد واقعات میں ملوث قرار دیے جانے پر برہمی کا اظہار کیا اور ایم کیو ایم کا بھرپور دفاع بھی کیا۔ صدر صاحب نے یہ بھی کہا کہ اگر چیف جسٹس کا خیر مقدم کرنے کے لیے بیس تیس ہزار افراد کا جلوس ایم کیو ایم کے مضبوط گڑھ والے علاقوں سے گزرتا تو ایسا لگتا کہ ایم کیو ایم کمزور پڑ گئی ہے۔ صدر کی اس عجیب منطق کے بارے میں سیاسی حلقوں میں یہ سوال گردش کرتا رہا کہ کیا کراچی میں کسی اور کو سیاست کی اجازت نہیں یا جو کچھ ایم کیو ایم نے کیا یا اپنا قلعہ بچانے کے لیے کل جو کرنا چاہے تو وہ جائز ہوگا؟ |
اسی بارے میں ایم کیو ایم سے تعلق نہیں: مشرف18 May, 2007 | پاکستان لال مسجد: پولیس اہلکار یرغمال18 May, 2007 | پاکستان حماد قتل: تحقیقات ہائی کورٹ کےحوالے18 May, 2007 | پاکستان ’کراچی میں ایم کیوایم طاقتور ہے‘18 May, 2007 | صفحۂ اول ’ملزم دو، مغوی پولیس اہلکار لو‘19 May, 2007 | پاکستان وکلاء نےزبردستی کی: پولیس18 May, 2007 | پاکستان ایڈیشنل رجسٹرار کا قتل14 May, 2007 | صفحۂ اول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||