285 سویلین عہدوں پر فوجی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان حکومت نے جمعہ کو پارلیمان کو بتایا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں دو سو پچاسی اہم سویلین عہدوں پر حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسران کو تعینات کیا گیا۔ ایوان بالا سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران محمد اعظم خان سواتی کے سوال کے جواب میں وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے بتایا ہے کہ سنہ دو ہزار سے تاحال اکتالیس نان کیریئر ڈپلومیٹس تعینات کیے گئے ہیں جس میں اکتیس ریٹائرڈ فوجی افسر شامل ہیں۔ قومی اسمبلی کے وقفہ سوالات میں بیلم حسنین کے سوال پر اسٹیبلشمینٹ ڈویژن کے پیش کردہ تحریر جواب میں بتایا گیا ہے کہ مختلف وزارتوں اور ان سے منسلک کارپوریشنز یا نیم خود مختار اداروں میں دو سو چون اہم سویلین عہدوں پر فوجی افسران تعینات کیے گئے۔ حکومت نے اپنے تحریری جواب میں بتایا ہے کہ انتیس حاضر سروس فوجی افسروں کو اپنے کوٹہ کے مطابق سول سروسز میں ضم کیا گیا۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بتایا ہے کہ ایک سو سولہ حاضر سروس فوجی افسران کو ڈیپوٹیشن یا سیکنڈ مینٹ پر مختلف وزارتوں کے اہم عہدوں پر تعینات کیا گیا۔ جبکہ حکومت کے مطابق تینوں مسلح افواج کے مختلف عہدوں سے ریٹائر ہونے والے ایک سو نو افسران کو مختلف وزارتوں میں کانٹریکٹ پر تعینات کیا گیا۔ حکومت کے مطابق مقابلے کا امتحان پاس کرنے کے بعد اعلیٰ سول سروسز کے گریڈ سترہ کے عہدوں کے لیے دس فیصد کوٹہ حاضر سروس فوجی افسران کے لیے مختص ہے۔ ان عہدوں پر تعیناتی کے لیے نامزد فوجی افسران کا فیڈرل پبلک سروس کمیشن ٹیسٹ لیتا ہے اور انہیں سویلین عہدوں پر مستقل تعینات کرتا ہے۔ حکومتی جواب میں کہا گیا ہے کہ ریٹائرڈ فوجی افسران کا نو وزارتوں میں دس فیصد کوٹہ ہے اور اس پر تعیناتی کے لیے ڈیفنس سروس آفیسرز سلیکشن بورڈ سفارش کرتا ہے۔ حکومتی جواب میں کانٹریکٹ پر تعینات ایک سو نو فوجی افسران اور ڈیپوٹیشن اور سیکنڈمنٹ پر تعینات ایک سو سولہ فوجی افسران کے بارے میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ ان کا کوئی کوٹہ ہے یا کہ صوابدیدی اختیار کے تحت انہیں مقرر کیا گیا ہے۔ اہم سویلین عہدوں پر تعیناتی کے بارے میں متعلقہ اداروں کے کیریئر سول افسران کو سخت تحفظات ہیں لیکن وہ اس بارے میں آن دی ریکارڈ کچھ کہنے کے لیے تیار نہیں۔ ایک افسر نے بتایا کہ حاضر سروس یا ریٹائر فوجی افسران کی تعیناتی سے ریگولر سروس کے افسران کی ترقی رک جاتی ہے اور کچھ ایسے سویلین افسر بھی ہیں جو اگلے گریڈ میں ترقی واجب ہونے کے باوجود بھی ترقی کے بنا ریٹائر ہوگئے اور انہیں پینشن وغیرہ میں نقصان اٹھانا پڑا۔ | اسی بارے میں پاک فوج کی کاروباری سرگرمیاں23 July, 2004 | پاکستان چالیس روپے فی مربع فٹ02 February, 2005 | پاکستان بارہ ریٹائرڈ فوجی افسر سفیر بنے09 June, 2004 | پاکستان فوجیوں پر سندھ پولیس کا مقدمہ05 August, 2005 | پاکستان کوٹ بگٹی:فوج قابض،پولیس محافظ01 May, 2007 | پاکستان مزارعے بلڈوزروں کے آگے لیٹ گئے11 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||