BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 June, 2004, 11:43 GMT 16:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بارہ ریٹائرڈ فوجی افسر سفیر بنے

پرویز مشرف
جنرل مشرف نہ یہ تعیناتیاں بحیثیت چیف ایگزیکٹیو کی تھیں۔
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے وزارت خارجہ میں جو انیس سینیئر افسر کنٹریکٹ پر بھرتی کیے ہیں ان میں سے سترہ ریٹائرڈ فوجی ہیں۔

وزیر خارجہ کی طرف سے یہ معلومات پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شگفتہ جمانی کے ایک تحریری سوال کے جواب میں تین جون کو قومی اسمبلی کو فراہم کی گئیں۔ تفصیلات کے مطابق سترہ فوجی افسران میں سے بارہ سفیر کے عہدے پر بھرتی کیے گئے۔

تاہم اسمبلی کی رکن جمانی کے پوچھنے کے باوجود سفیر کے عہدے پر بھرتی کیے گئے ریٹائرڈ فوجیوں کی تعلیم اور ڈومیسائل کی تفصیل نہیں بتائی گئی جبکہ بھرتی کئے جانے والے سویلین افراد کے بارے میں یہ معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

قومی اسمبلی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق کنٹریکٹ پر وزارت خارجہ میں بھرتی ہونے والے سویلین افراد میں سے اکبر ایس احمد کو سفیر جبکہ عبدالقادر جعفر کو برطانیہ میں ہائی کمشنر تعینات کیا گیا۔

سفیر کے عہدے پر بھرتی ہونے والے فوجیوں میں تین ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ہیں جن میں محمد اسد درانی ، محمد شفیق اور نسیم رانا شامل ہیں اور چھ ریٹائرڈ میجر جنرل ہیں جن میں شجاعت علی خان ، سلیم اللہ ، حسن عقیل ، سید مصطفیٰ، انور حسین اور بدرالدین شامل ہیں۔

سفیر بننے والے دیگر افراد میں ریٹائرڈ وائس ایڈمرل شمعون احمد خان اور خالد ایم میر اور ایک سابق برگیڈیئر عبدالمجید بھی شامل ہیں۔

وزارت خارجہ میں کنٹریکٹ پر بھرتی کیے گئے دیگر پانچ ریٹائرڈ فوجیوں کی ڈائریکٹر جنرل کی سطح کے عہدوں پر تقرری ہوئی جس میں تین برگیڈیئر میاں خالد حبیب ، سعید احمد رفیع اور ٹیپو سلطان شامل ہیں۔ جبکہ دو سابق کرنلوں کو ڈائریکٹر کی سطح کے عہدوں پر مقرر کیا گیا جن میں سالک نواز اور مسرت نعیم شامل ہیں۔

واضع رہے کہ یہ تقرریاں نومبر سن انیس سو ننانوے سے نومبر سن دوہزار ایک کے درمیاں کی گئیں جب ملک کے وزیراعظم کے اختیارات بھی بطور چیف ایگزیکٹو صدر مشرف کے پاس تھے۔

سویلین ملازمتوں میں فوجیوں کا دو فیصد کوٹا مختص ہے لیکن ان کی تقرریاں کئی دہائیوں سے ملک میں سویلین حکومتوں کے ادوار میں بھی مقررہ حد سے کئی گنا زیادہ ہوتی رہی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد