| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
دو سال میں چودہ فوجی افسر گرفتار
حکومت نے ایوان بالا سینٹ میں تحریری طور پر جمعہ کے روز پیش کردہ معلومات میں بتایا ہے کہ اختیارات کے غیر قانونی استعمال، بدعنوانی اور آمدنی سے زائد املاک بنانے کے الزامات کے تحت دو سال میں سویلین عہدوں پرتعینات 14 فوجی افسروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے سینٹر فرحت اللہ بابر نے وزیراعظم سیکریٹیریٹ کے انچارج وزیر سے اپنے تحریری سوال میں دریافت کیا تھا کہ سول عہدوں پر کام کرنے والےکتنے فوجی افسران کوپچھلے دو سال کے دوران قومی احتساب بیورو آرڈیننس کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے جواب میں جن چودہ فوجی افسران کی فہرست پیش کی گئی ہے ان میں سے 9 افسران کے خلاف بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال جبکہ 5 فوجی افسران کو ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثہ جات بنانے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ ریئرایڈمرل (ر) اکبر حسین خان سابق چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ کے خلاف تین ریفرنسسز کراچی کی احتساب عدالت میں زیر التوٰی ہیں جبکہ کمانڈر (ر) اشفاق بیگ مرزا سابق ڈائریکٹر شپ مینجمینٹ، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن ریئر ایڈمرل (ر) جاوید علی سابق چیئرمین پاکستان شپنگ کارپوریشن، سابق نیول چیف منصورالحق اور کیپٹن (ر) نصیر احمد کے خلاف بھی احتساب عدالتوں میں اختیارات کے غلط استعمال اور بدعنوانی کے الزامات کے تحت مقدمات زیر سماعت ہیں۔ سینٹ کومزید بتایا گیا کہ سابق چیئرمین واپڈا لیفٹینٹ جنرل (ر) زاہد علی اکبر، برگیڈیئر (ر) کرار علی آغا سابق سیکریٹری ایل سی سی ایچ ایس لاہور، میجر (ر) شکیل احمد سابق ڈی سی ملتان، میجر (ر) مشتاق احمد سابق ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے، اور کیپٹن (ر) محمد سعید ڈپٹی ڈائریکٹر ہاؤسنگ کے خلاف آمدنی کے ذرائع سے زائد اثاثہ جات بنانے کے الزام کے تحت کاروائی ہورہی ہے۔ کموڈور (ر) طیب نقوی، میجر محمد رشید احمد، الیاس شمیم اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد یونس جعفر کے خلاف بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات کے تحت تفتیش ہورہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||