ڈینیئل پرل کیس کا ایک ملزم رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکومت نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کیس میں مطلوب ایک ملزم سعود میمن کو زیرِ حراست رکھنے کے بعد رہا کر دیا ہے۔ سعود میمن کی رہائی کے بعد ان کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ سعود اپنی یادداشت کھو چکے ہیں۔ ان کی گرفتاری اور رہائی کا انکشاف جمعہ کو سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کی درخواست کی سماعت کے موقع پر ہوا تھا۔ سعود میمن پر ڈینئل پرل کیس میں جگہ فراہم کرنے اور تمام جہادی تنظیموں کو القاعدہ سے فنڈ لے کر دینے اور وسائل فراہم کرنے کا الزام ہے اور ان کی گرفتاری پر تیس لاکھ روپے انعام رکھا گیا تھا۔ سی آئی ڈی سندھ کی جانب سے جاری کردہ انتہائی مطلوب افراد کی فہرست ’ریڈ بک‘ میں بھی سعود میمن کا نام شامل ہے اور انہیں انتہائی خطرناک ترین دہشتگرد قرار دیا گیا ہے۔ سی آئی ڈی کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات کے مطابق سعود میمن دھیمے لہجے میں بات کرتے ہیں اور وہ اردو کے علاوہ میمن زبان جانتے ہیں۔ ان کا تعلق حرکت المجاہدین سے بتایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں جمعہ کو سماعت کے موقعے پر سعود میمن کو سٹریچر پر لایا گیا تھا۔ عدالت کو بتایاگیا کہ سعود میمن کو امریکی ایجنسی ایف بی آئی نے 2005 میں جنوبی افریقہ سے گرفتار کر کے گوانتانامو بے بھیج دیا تھا جہاں ڈھائی سال تک رکھنے کے بعد انہیں آئی ایس آئی کے حوالے کیا ہے۔ سعود میمن کے ورثا نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ حکم جاری کریں کہ سعود میمن کا میڈیکل چیک اپ کرایا جائے تاکہ ان کی صحت کی موجودہ حالت کا درست پتہ چل سکے۔ سعود میمن کے ایک بھائی نے بتایا کہ حراست کے دوران تشدد کے باعث سعود میمن اپنی یاداشت کھو چکے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اب سعود میمن کے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال سے مکمل میڈیکل چیک اور میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ یاد رہے کہ امریکی اخبار ’وال سٹریٹ جرنل‘ کے صحافی ڈینیل پرل کو جنوری دو ہزار دو میں کراچی میں اس وقت اغواء کر کے قتل کر دیا گیا تھا جب وہ شدت پسندوں کے بارے میں ایک رپورٹ پر کام کر رہے تھے۔ حیدر آباد میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے دو ہزار دو میں ڈینیئل پرل کیس کے اہم ملزم احمد عمر شیخ کو سزائے موت سنائی تھی جبکہ تین دیگر ملزمان شیخ عادل، سلمان ثاقب اور فہد نسیم کو عمر قید کا حکم سنایا گیا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ میں ملزمان اور حکومت کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف دائر اپیلیں زیر سماعت ہیں ۔ یاد رہے کہ ایک جانب تو پاکستانی عدالت میں عمر شیخ کو ڈینیئل پرل کیس میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے تو دوسری جانب حال ہی میں امریکی محکمۂ دفاع نے کہا ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے مبینہ ’ماسٹر مائنڈ‘ خالد شیخ محمد نے بھی امریکی صحافی ڈینئل پرل کے قتل کا اعتراف کیا ہے۔ | اسی بارے میں لاپتہ افراد کیس، سماعت ملتوی04 May, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد: عدالت پالیسی بنائےگی27 April, 2007 | پاکستان رپورٹ عدالت میں پیش ہوگی:حکومت24 April, 2007 | پاکستان شیخ عادل کے طبی معائنے کا حکم 28 March, 2007 | پاکستان ’غیر انسانی سلوک کا شکار ہوں‘24 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||