بچی ایدھی سینٹر کو دینے کی ہدایت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سانگھڑ کی عدالت نے ایک دو ماہ کی لاوارث بچی کوایدھی سینٹر کےحوالے کرنے کی ہدایت کی ہے۔اس بچی کی پرورش کرنے والی خاتون کا کہنا ہے کہ انہیں یہ بچی ایک ہسپتال کے باہر سے ملی تھی۔ ٹنڈو آدم پولیس نے منگل کو دو ماہ کی بچی انمول اور اس کی پرورش کرنے والی خاتون مسمات شریفاں کوعدالت میں پیش کیا۔ مسمات شریفاں نے عدالت کو بتایا کہ انہیں یہ بچی سات محرم کو ٹنڈو آدم کے ایک ہسپتال کے باہر کوڑے کے ڈھیر سے ملی تھی۔ شریفاں کے سات بیٹے ہیں۔ اس سے قبل مقامی اخبارات میں یہ خبریں شائع ہوئی تھیں کہ اس بچی کو ایک دائی نے چار پانچ ہزار روپے میں فروخت کیا ہے۔ ٹنڈوآدم پولیس کے ایس ایچ او واحد بخش لغاری کا کہنا ہے کہ انہوں نے اخبار میں پڑھا تھا کہ مسمات شریفاں نے کسی سے یہ بچی لی ہے مگر شریفاں نے عدالت میں بیان دیا ہے کہ انہیں یہ ملی ہے۔ پولیس نے بچی کے فروخت ہونے کی کوئی تحقیقات نہیں کی۔ اس بارے میں انسپیکٹر واحد بخش کا کہنا ہے پولیس کے پاس نہ تو کوئی فریادی آیا اور نہ ہی کوئی بیان دینے آیا ہے۔ سیشن جج سانگھڑ کے حکم پر بچی کو ایدھی سینٹر حیدرآباد پہنچایا گیا ہے۔ پاکستان میں ایدھی سینٹر لاوارث بچوں کی پرورش کرنے والا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ ایدھی سینٹر گاہے بگاہے اپیل کرتا رہتا ہے کہ نومولود بچوں کو مارنے یا پھینکنے کے بجائے ان کے سینٹروں میں لگے جھولوں میں ڈالیں۔ | اسی بارے میں ’قرض کے عوض 7 سالہ بچی یرغمال‘07 April, 2007 | پاکستان عبدالستارایدھی بیروت پہنچ گئے24 July, 2006 | پاکستان بچیاں دینے کی رپورٹ طلب28 June, 2006 | پاکستان گیارہ مویشیوں کے عوض دو پوتیاں 08 June, 2006 | پاکستان لاوارث بچوں کی ماں13 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||