’قرض کے عوض 7 سالہ بچی یرغمال‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سکھر میں قرض کے عوض سات سالہ بچی کو یرغمال رکھنے والے قبائلی سردار کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جیل بھیج دیا۔ قبائلی سردار واحد بخش بھیو پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک سات سالہ بچی شبیراں کو قرض کے عوض گھر میں یرغمال رکھا ہوا تھا۔ سکھر کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر ون کے جج نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سردار واحد بحش بھیو کی ضمانت رد کردی۔ شبیراں کی والدہ مسمات حمیداں نے سندھ ہائی کورٹ سے درخواست کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ان کی سات سالہ بیٹی شبیراں اپنے ماموں نظر محمد کے پاس رہتی تھی، انہوں نے شببیراں کو سردار واحد بخش بھیو کے گھر میں کام کاج کے لیے ملازم رکھوایا تھا اور ستر ہزار قرض لیا تھا۔ مسمات حمیداں کا کہنا ہے کہ سردار واحد بخش نےلڑکی واپس دینے سے انکار کردیا تھا۔ اس درخواست پر سندھ ہائی کورٹ نے شکارپور پولیس کو سردار واحد بخش کے خلاف لڑکی کو یرغمال بنانے کے الزام میں مقدمہ دائر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
پولیس نے اس مقدمے کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چالان کیا تھا، سردار واحد بخش نے گرفتاری سے قبل ضمانت حاصل کرلی تھی۔ شبیراں کی والدہ نے سپریم کورٹ کے غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ایک خط لکھ کر انصاف کی اپیل کی تھی۔ چیف جسٹس نے اس درخواست کا نوٹس لیتے ہوئے سردار واحد بخش اور شکارپور پولیس کو اسلام آباد طلب کیا تھا۔ جسٹس افتخار محمد چودھری نے سردار واحد بخش بھیو کی عبوری ضمانت منسوخ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ سنیچر کو سماعت کے موقع پر خصوصی عدالت نے سردار واحد بخش کی ضمانت منسوخ کر کے انہیں جیل بہیج دیا۔ واضح رہے کہ سات سالہ شبیراں تاحال لاپتہ ہے اس کے والدین سردار واحد بخش پر الزام عائد کرتے رہے ہیں جب کہ وہ اس سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں۔ | اسی بارے میں ماموں کے قتل کے بدلے میں چودہ قتل19 July, 2005 | پاکستان ایک بیٹی کے بدلے بیوی ایک سے رقم 30 July, 2004 | پاکستان ’فرض بھی ہے اور قرض بھی‘21 December, 2005 | پاکستان ہر ماہ دو سے ڈھائی ہزار روپے قرضہ لیتے ہیں‘06 June, 2005 | پاکستان ’قرضے کی وجہ سے گردہ بیچا‘15 November, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||