ماموں کے قتل کے بدلے میں چودہ قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس نے لاہورمیں ایک نوجوان کو ان چودہ افراد کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جن کی لاشیں گزشتہ ایک مہینے کے دوران الگ الگ اوقات میں شہر کے مختلف پارکوں اور فٹ پاتھوں سے برآمد ہوئی تھیں۔ لاہور پولیس کے سنیئیر سپرنٹنڈنٹ پولیس عامر ذوالفقار خان نے دیگر پولیس افسروں کے ہمراہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منگل کی صبح ملزم نے گلبرگ کے علاقے میں ایک شخص کو ہلاک کر دیا تھا اور ایک منی بس میں سوار ہو کر اندرون شہر پہنچا تھا جہاں اس نے ایک ملنگ کے سر پر پتھر مارا تو شور مچ گیا ایک بہتر سالہ چوکیدار وکیل خان نے اس کا تعاقب کیا اور مقامی مکینوں کی مدد سے اسے گرفتار کر لیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم نے وارداتوں کا آغاز بیس جون سے کیا تھا اور اب تک اس نے چودہ افراد کو ہلاک اور دو افراد کو زخمی کیا ہے۔ تمام ہلاک شدگان کو رات کو سوتے میں سر کچل کر ہلاک کیا گیا تھا اور تمام مقتولین کا تعلق غریب لوگوں کے ایک ایسے طبقے سے ہے جو اپنی غربت کی وجہ سے کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور تھے۔ ایس ایس پی لاہور کا کہنا تھا کہ ملزم لاہور کا رہائشی ایک ایسا پچیس سالہ نوجوان ہے جس نے اپنے ماموں کے چند سال پرانے قتل کا معاشرے سے انتقام لینے کے لیے سلسلہ وار قتل شروع کیے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم بچپن سے ہی تشدد پسند تھا اور اس نے چار پانچ سال کی عمر میں اپنی استانی سے لڑائی کی تھی جس کی وجہ سے بچپن میں ہی اس کی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ وہ اپنی ماں بہنوں اور والد سے بھی لڑتا تھا اور پرتشدد رویہ اپنائے رکھتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم کے ماموں ڈاکٹر شاہد کا سابق مئیر ریاض محمود کے پولیس انسپکٹر بیٹے رضوان کے ہمراہ چند سال قبل قتل ہوگیا تھا جس سے ان کا پورا خاندان مالی تنگی کاشکار ہوا اور خود ملزم کو شدید ذہنی صدمہ ہوا۔ پولیس کے مطابق ملزم چرس پیتا تھا اور اس نے کئی قتل نشے کے عالم میں کیے۔ پولیس کےمطابق جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ لوگوں کو ہلاک کرنے کے لیے ڈنڈا کیوں استعمال نہیں کرتا تھا؟ تو اس نے پولیس کو جواب دیا کہ وہ اس کام پر پیسے نہیں خرچ کرنا چاہتا۔ ایس ایس پی نے کہا کہ ملز م بیمار ذہنیت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ہوشیار آدمی بھی ہے اور اس کا تعلق قاتلوں کے اس طبقے سے جنہیں قتل میں لذت محسوس ہونے لگتی ہے۔ جب ایس ایس پی سے پوچھا گیا کہ کیا ملزم کو ذہنی مریض ہونے کے باعث رہائی مل سکتی ہے تو ایس ایس پی نے جواب دیا کہ اس بات کا فیصلہ عدالت کرے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ملزم رنگے ہاتھوں گرفتار ہوا ہے۔ ایس ایس پی کے بقول ملزم نے پولیس کے روبرو قتل کا اعتراف کر لیاہے اور پولیس نے اس کے گھر شاد باغ چھاپہ مار کے خون آلود کپڑے اور چند ایسے کاغذات برآمد کر لیے ہیں جو ملزم مقتولین کی جیبوں سے نکال لیا کرتا تھا۔ لاہور پولیس کے آپریشن ونگ کے انچارج ذوالفقار خان سے پوچھا گیا کہ چند مقتولین کو بظاہر کسی کند آلے کے وار سے بھی ہلاک کیا گیا ہے تو ایس ایس پی نے جواب دیا کہ بعض پتھر نوکیلے بھی ہوتے ہیں اور ان سے مختلف قسم کی ضربات آسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزم اکیلے ہی یہ تمام قتل کر تا رہا ہے لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی اس معاملے پر تفتیش جاری ہے اور قتل کے دوسرے محرکات بھی سامنے آسکتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||