’فرض بھی ہے اور قرض بھی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھ اکتوبر کے زلزے میں پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں ستر ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے اور اب بھی بہت سارے لوگ ملبے تلے دفن ہیں۔ ان کی رشتہ داروں کو ان کے زندہ ہونے کی کوئی امید نہیں ہے اور وہ ان کی لاشوں کی تلاش میں ہیں اور ان کی بس یہی خواہش ہے کہ ان کو اپنے عزیزوں کی لاشیں مل جائیں۔ کامسر بھی زلزے سے متاثرہ علاقوں میں سے ایک ہیں جہاں لوگ ملبے تلے دبے ہوئے رشتہ داروں کی تلاش میں ہیں ۔ دریائے نیلم کے کنارے پر واقع کامسر مظفرآباد سے چھ کلومیڑ کے فاصلے پر ہے ۔ زلزلے سے پہلے یہاں پر کوئی چار ہزار کشمیری پناہ گزین آباد تھے اور زلزلے کے بعد ان میں سے بیشتر دوسری جگہ منتقل ہوچکے ہیں۔ یہ وہ پناہ گزین ہیں جو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سنہ 1988 میں مسلح تحریک شروع ہونے کے بعد لائن آف کنڑول عبور کرکے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں آکر آباد ہوئے۔ آٹھ اکتوبر کے زلزے میں کامسر میں رہنے والے پناہ گزینوں کے گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے اور کوئی تین سو پناہ گزین ہلاک ہوگئے۔ اس علاقے کا کچھ حصہ ایک درجن گھروں سمیت کٹ کر دریا کے کنارے پر گر گیا تھا جس کے باعث اس ملبے کے نیچے باون افراد دفن ہوگئے تھے جس میں چھتیس افراد کی لاشیں ابتدائی دنوں میں نکالی گئی تھیں لیکن سولہ افراد اب بھی ہزاروں ٹن ملبے کے نیچے دفن ہیں۔ ان کے اپنے روزانہ صبح ایک امید کے ساتھ گینتی بیلچہ لے کر آتے ہیں اور اپنوں کی تلاش میں سارا دن کھدائی کرتے ہیں اور شام کو مایوس ہوکر لوٹ جاتے ہیں۔لیکن انھوں نے ہمت نہیں آرہی اور وہ ہرروز اپنوں کی لاشوں کی تلاش میں نکلتے ہیں۔
گلشاد احمد بٹ بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ ان کا ایک بھائی اور دو بہنیں زلزے میں ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ان کی تیسری بہن اب بھی ملبے تلے دفن ہے۔ انہوںنے بتایا کہ’میری بہن ، چچا کی بیٹی ، ایک کزن اور اسکی بیٹی ابھی بھی ملبے کے نیچے دفن ہیں۔ میں اور میرے خاندان کے دوسرے لوگ ان کی لاشوں کی تلاش کے لیے روزانہ آتے ہیں اور ہم ہر روز آٹھ ،نوگھنٹے کھدائی کرتے ہیں لیکن ابھی تک ہمیں ان کی لاشیں نہیں ملیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ابتدا میں فوج نے بھی لاشیں نکالنے میں ہماری مدد کی تھی لیکن ’اب ہم خود یہ کام کرتے ہیں ہمارے ساتھ کوئی تعاون نہیں کرتا‘۔ گلشاد بٹ کا کہنا ہے ہم لاشوں کی تلاش جاری رکھیں گے کیوں کہ یہ ہم پر فرض بھی ہے اور قرض بھی۔ ان کا کہنا ہے کہ’ہمیں ان کے زندہ ہونے کی کوئی امید نہیں ہے کیوں کہ اتنا عرصہ گزر چکا ہے۔ ہماری بس یہی خواہش ہے کہ کم از کم لاشیں مل جائیں تا کہ ہم اسلامی طریقے کے مطابق ان کو دفن کر سکیں‘۔ مستاجرکا تعلق وادی نیلم کے علاقے اٹھمقام سے ہے۔ ان کی بیٹی چند سال سے مظفرآباد میں ایک مدرسے میں زیر تعلیم تھیں اور وہ کامسر میں اپنی چچازاد بہن کے ساتھ رہتی تھیں۔ مستاجر کہتے ہیں کہ’میں کوئی ایک ماہ سے اپنی بیٹی کی تلاش میں یہاں آ رہا ہوں لیکن اس کی لاش نہیں ملی ۔ میری اللہ سے یہی دعا ہے کہ مجھے اپنی بیٹی کی لاش مل جائے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ’اگر میری بیٹی کی لاش ملی تو میں اس کو اٹھمقام لے جاکر دفن کروں گا بشرطیکہ وہ لے جانے کے قابل ہوئی بصورت دیگر اس کو یہاں پر ہی دفنائیں گے‘۔ ظہور احمد کی پھوپھی اور خالہ بھی ملبے تلے دفن ہیں ۔ ان کا کہنا کہ ’ہم زلزلے کے دسویں روز سے یہاں آ کر ان کی لاشوں کی تلاش کے لیے کھدائی کرتے ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کے وہ مزید ایک سے ڈیڑھ ماہ تک ان کی لاشوں کی تلاش جاری رکھیں گے اور ان کو یہ امید ہے کہ ان کو لاشیں مل جائیں گی ۔ | اسی بارے میں ’نظریں دراور کان آہٹ پر لگے ہیں‘11 December, 2005 | پاکستان شاہ زمان کا سفر20 December, 2005 | پاکستان کام بے تحاشا مگر کرنے والے کم17 December, 2005 | پاکستان لاشوں کے بعد سریے کی تلاش12 December, 2005 | پاکستان مرے کو مارے شاہ مدار۔۔05 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||