BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 July, 2004, 13:35 GMT 18:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک بیٹی کے بدلے بیوی ایک سے رقم

ماں باپ
ماں زینت اور باپ رفیق جنہیں پولیس نےگرفتار کر لیا ہے
بیٹی کو دس ہزار روپے میں بیچنے والے شخص کا دعویٰ ہے کہ اس نے بیٹی کو بیوی کی بیماری کی وجہ سے بیچا ہے۔

رفیق نامی اس شخص نے چار سال پہلے چار سالہ بیٹی کے بدلے ایک بیوہ سے شادی کی تھی اور اس کا کہنا ہے کہ اس نے دوسری شادی اس لیے کی تھی کہ اس کی پہلی بیوی سے اسے بیٹا حاصل نہیں ہو سکا تھا۔

رفیق کی پہلی بیوی زینت سے تین بیٹیاں ہوئیں جن میں سے پہلی بیٹی کی عمر بارہ سال ہے اور وہ اب بھی ماں باپ کے ساتھ ہے۔ آٹھ سالہ صائمہ کو اس نے چار سال پہلے بدلے میں دیا اور اور زرینہ نامی بیوہ سے شادی کی جب کہ چھ سالہ شہناز کو اب فروخت کیا گیا۔

پولیس نے رفیق، اس کی پہلی بیوی زینت اور شہناز کو خریدنے والی شمع کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ اسے خفیہ ذرائع سے علم ہوا تھا کہ بازار حسن میں ایک بچی کو فروخت کیا گیا ہے۔ جس کے بعد اس نے کارروائی کی۔

شمع کا کہنا تھا کہ اس نے شہناز کو اپنے بیٹے سے رشتے کے لیے خریدا ہے اور وہ اس کے جوان ہونے کا انتظار کرے گی اور اسے اپنے بیٹے سے بیاہے گی۔ تاہم تفتیش کے دوران پتہ چلا کہ شمع غیر شادی شدہ ہے اور اس کا کوئی بیٹا نہیں ہے۔

اب شمع نے یہ موقف اختیار کیا کہ اس نے شہناز کو گود لیے گئے بیٹے کے لیے پچیس ہزار روپےمیں خریدا ہے۔

شمع نے بتایا کہ شہناز کا والد اپنی دو بیٹیاں لایا تھا۔جس میں سے اس نے ایک کو اپنے بیٹے کے لیے خریدا۔

شہناز
چھ سالہ شہناز جسے بازارِ حسن کی شمع نامی عورت سے بازیاب کیا گیا

پولیس نے پہلے شمع کو حراست میں لیا اور پھر اس کی نشاندہی پر شہناز کے والد رفیق اور والدہ زینت کو دادو ضلع کے ایک گاؤں سے حراست میں لے لیا۔ شہناز نے محمد رفیق کی باپ کے طور پر شناخت کی اور ماں سے چمٹ کر روتی رہی۔

رفیق نے پولیس کے سامنے بچی کے بیچنے کا اقرار کیا اور بتایا کہ شہناز اس کی اپنی بیٹی ہے اور اس نے اپنی مرضی سے لڑکی کو بیچا ہے اور کوئی جرم نہیں کیا ہے۔

رفیق نے کہا کہ وہ غریب آدمی ہے اور اس کی بیوی ٹی بی کی مریضہ ہے جس کے علاج کے لیے وہ دس ہزار روپے کا مقروض ہو چکا تھا۔ اس نے انکشاف کیا کہ اس سے پہلے بھی وہ ایک بدلے میں دے چکا ہے جبکہ ایک بیٹی ابھی بھی اس کے پاس ہے۔

تعلقہ پولیس آفیسر ہالہ ملک ظفر کا کہنا ہے کہ جس عورت سے لڑکی بازیاب کی گئی ہے اس کا کردار مشکوک ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ لڑکی اس کے ہاتھوں میں رہے۔ ہمیں لڑکی کے والدین پر بھی شک ہے۔

ایس ایچ او ہالہ عبدالحق شاہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی لڑکی کے تحفظ اور اسےگندے ہاتھوں سے بچانے کے لیے کی گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد