BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 April, 2007, 13:59 GMT 18:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وزیرستان: جھڑپیں جاری ہیں‘

جنوبی وزیرستان
انیس مارچ سے جاری اس لڑائی میں اب تک دونوں جانب سے ڈھائی سو کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مقامی قبائل اور غیر ملکیوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں جبکہ شین ورسک میں مقامی قبائل کی جانب سے غیر ملکیوں کے علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ تاہم کسی کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

گزشتہ روز قبائلی لشکر کی جانب سے شین ورسک اور ژہ غنڈی کے علاقوں میں قائم غیر ملکیوں کے مورچوں پر بھاری ہتھیاروں سے شدید حملے میں حکام کے مطابق اڑتالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔

پکے مورچے
 شین ورسک میں ’ پکے مورچوں‘ کہلانے والے یہ مورچے پاکستانی سکیورٹی فورسزز نے مقامی جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی میں تعمیر کرائے تھے۔ بعد میں حکومت اور مقامی طالبان کے مابین امن معاہدے کے نتیجے میں ان مورچوں کو سکیورٹی فورسزز نے خالی کرایا تھا جو اب غیر ملکیوں کے زیر کنٹرول بتائے جاتے ہیں۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ آج صبح مولوی نذیر کے حامیوں کی جانب سے شین ورسک میں قائم غیر ملکیوں کے اہم مورچوں پر تازہ حملے کئے گئے جس کے نتیجے میں قبائل جنگجوؤں نے کچھ علاقوں پر کنٹرول بھی حاصل کرلیا ہے تاہم ایک مورچے پر غیر ملکیوں کا قبضہ بدستور برقرار بتایا جاتا ہے۔

شین ورسک میں ’ پکے مورچوں‘ کہلانے والے یہ مورچے پاکستانی سکیورٹی فورسزز نے مقامی جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی میں تعمیر کرائے تھے۔ بعد میں حکومت اور مقامی طالبان کے مابین امن معاہدے کے نتیجے میں ان مورچوں کو سکیورٹی فورسزز نے خالی کرایا تھا جو اب غیر ملکیوں کے زیر کنٹرول بتائے جاتے ہیں۔

ادھر وانا سکاؤٹس کیمپ سے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی طرف سے غیر ملکیوں کے مورچوں پر وقفے وقفے سے توپ کے گولے داغے جانے کی بھی اطلاعات ہیں تاہم سرکاری طور پر اس سلسلے میں کچھ نہیں کہا گیا۔

قبائل اور ازبک جنگجوؤں کے مابین انیس مارچ سے جاری اس لڑائی میں اب تک دونوں جانب سے ڈھائی سو کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ قبائل نے علاقے میں کئی سالوں سے مقیم غیر ملکیوں کو علاقہ بدر کرنے تک جنگ جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد