تاریخی قبرستان کی بربادی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹھٹھہ میں واقع تیرہویں صدی کے قدیم قبرستان کے بڑے حصے کو ایک ٹھیکیدار کےعملے نے پہاڑی پتھر کے حصول کے لئے کھود دیا ہے جس سے قدیم مقبروں کو نقصان پہنچا ہے- اس امر کی نشاندہی پر حکومت سندھ نے ٹھیکہ منسوخ کردیا ہے تاہم حکومت سندھ کے ایک اعلی اہلکار کے مطابق ٹھیکیدار کے عملے نے یہ کہہ کر کام روکنے سے انکار کردیا ہے کہ ٹھیکہ علاقے کی بااثر شخصیات کے پاس ہے اور جب تک وہ کام بند کرنے کا حکم نہیں دیتے وہ کھدائی جاری رکھیں گے- پیر لاکھو نامی یہ قبرستان ضلع ٹھٹھہ کے قدیم قصبے جھرک کے قریب واقع ہے اور اڑسٹھ ایکڑ کے وسیع علاقے پر پھیلا ہوا ہے- آثار قدیمہ کے ماہرین کے مطابق اس قبرستان میں تیرہویں صدی عیسوی سے لیکر گزشتہ صدی تک تعمیر کی گئی قبریں موجود ہیں- ان قبروں میں منفرد طرز تعمیر والے قدیم مقبرے بھی شامل ہیں جو ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق تاریخی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ ان پر بنی ہوئی دلکش چوکنڈیاں اپنی نوعیت کی منفرد طرز تعمیر کا نمونہ ہیں، جو علاقے کے قدیم باشندوں نے متعارف کرائی تھیں اور ان کی خصوصیت یہ بتائی جاتی ہے کہ انہیں بہت کم لاگت اور کم مٹیریل سے تعمیر کیا گیا ہے-
انہوں نے بتایا کہ’ہمیں یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ قبرستان کا تقریباً آدھا حصہ پتھر نکالنے کے کاروبار سے وابستہ افرد کے تصرف میں تھا اور وہ وہاں سے پتھر نکال رہے تھے جس سے قدیم مقبروں کو بھی نقصان پہنچا ہے اور سندھ کے اس تاریخی قبرستان میں موجود تعمیرات بھی ہمارے ہاتھوں سے جارہی ہیں-، انہوں نے کہا کہ جب قبرستان سے پتھروں کی تہیں کی تہیں نکالی جائیں گی تو اس کا ماحولیاتی توازن متاثر ہوگا بارش کا پانی وہاں جمع ہوگا جو باقی ماندہ مقبرے کو بھی نقصان پہنچائے گا- کلیم اللہ لاشاری کا کہنا ہے کہ انہوں نے صوبائی سیکریٹری مائنز اینڈ منرلز ڈویلپمنٹ ڈپارٹمینٹ اور ضلعی رابطہ افسر ٹھٹھہ کو خطوط لکھ کر کھدائی رکوانے کی سفارش کی جس پر ٹھیکہ فوری طور پر منسوخ کردیا گیا جو کہ قبرستان سے دور ایک ویران پہاڑی علاقے کے لیے میسرز محمد ابراہیم نامی فرم کو دیا گیا تھا۔ لیکن اس فرم کے عملے نے پھر بھی غیرقانونی طور پر قبرستان میں کھدائی کرڈالی-
انہوں نے کہا کہ مائنز اینڈ منرلز ڈویلپمینٹ ڈپارٹمینٹ والے اس کام کو رکوانے کے لیے ضرور کوئی نہ کوئی کارروائی کررہے ہوں گے- تاہم حکومت سندھ کے مائنز اینڈ منرلز ڈویلپمنٹ ڈپارٹمینٹ صوبائی سیکریٹری عبدالحمید آخوند کہتے ہیں کہ ان کا کام لیز منسوخ کرنا تھا جو انہوں نے کردیا ہے اور کھدائی رکوانے کے لیے دوسرے محکموں کو آگے آنا چاہئے- ان کا کہنا ہے کہ کھدائی رکوانا ان کے محکمے کا کام نہیں ہے- ضلع ٹھٹھہ کے ناظم شفقت شاہ شیرازی نے اس بات کی تردید کی کہ ٹھیکیدار فرم کا ان سے کوئی تعلق ہے اور کہا ہے کہ وہ اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں گے- انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی آدمی ہیں اور جو لوگ انہیں ووٹ دیتے ہیں وہ ان کا نام بھی استعمال کرتے ہیں لیکن اس کایہ مطلب نہیں ہے کہ شیرازی وہاں پر کام کررہے ہیں- انہوں نےمزید بتایا کہ انہیں شکایت ملی تھی کہ کچھ لوگ اس قبرستان سے پتھر چوری کررہے ہیں ’ہم ان کو کام بھی نہیں کرنے دیں گے اور قانونی کارروائی بھی کریں گے-،، | اسی بارے میں آثار قدیمہ اور بارشیں07 September, 2003 | پاکستان موہنجوڈارو‘ عالمی ورثہ کی تباہی01 March, 2004 | پاکستان جولیاں کی خانقاہ کا آسیب18 March, 2005 | پاکستان جمالی کے بیٹے پر قبضے کا الزام26 January, 2004 | پاکستان بدین کے ملاحوں کی شکایت23 October, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||