BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 March, 2005, 17:54 GMT 22:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جولیاں کی خانقاہ کا آسیب

جولیاں کے آثار دریافت کرنے والے جان مارشل
جولیاں کے آثار دریافت کرنے والے جان مارشل
ٹیکسلا سے ہری پور جانے والی سڑک پر جولیاں کے مقام پر ایک ٹیلے پر گندھارا دور کی ایک خانقاہ کے آثار موجود ہیں جس کی تعمیر سن دو عیسوی میں کی گئی تھی اور سن پانچ عیسوی میں یہ خانقاہ تباہ ہو گئی۔

بی بی سی کی ٹیم جب اس خانقاہ پر پہنچی تو یہاں کے رکھوالے محمد رمضان نے ٹیم کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ’تمام چیزوں کے علم پر تو عبور حاصل نہیں کیا جا سکتا لیکن جو جانتے ہیں وہ بتائیں گے۔‘

محمد رمضان اور ان کے ساتھی اہلکار غلام رسول خانقاہ سے ملحقہ دو کمروں میں رہتے ہیں۔ ان کمروں میں ایک کونے میں چولہا ہے جس پر سردیوں میں وقت بے وقت چائے کے لیے آگ سلگتی رہتی ہے، کچھ چارپائیاں ہیں اور صفائی کا سامان۔ دیواریں دھویں سے کالی ہو چکی ہیں۔

News image
جولیاں پر گندھارا تہذیب کے آثار

کمروں کے دروازوں کے درمیان یاسمین کا پودا ہے جو چھت تک پھیلا ہوا ہے۔

ان کمروں کی خستہ حالی ان کی اہمیت کو کم نہیں کرتی۔

محمد رمضان نے چائے کا کپ پیش کرتے ہوئے ایک چارپائی سیدھی کی اور بتایا کہ جس کمرے میں ہم بیٹھے ہوئے تھے وہ سر جان مارشل کا دفتر تھا اور دوسرا کمرا ان کے سٹور کا کام دیتا تھا۔

جان مارشل نے انیس سو تیرہ سے لے کر انیس سو چونتیس تک ٹیکسلا میں کھدائی کی تھی اور گندھارا تہذیب کو منظر عام پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ٹیکسلا کے عجائب گھر سے تقریباً چھ کلومیٹر کے فاصلے پر جولیاں کی قدیم خانقاہ کے یہ آثار قدر بہتر حالت میں موجود ہیں اور اس کی مذہبی اہمیت کی یاد دلاتے ہیں۔

News image
جان مارشل کے دفتر کا اندرونی حصہ

خانقاہ ایک پہاڑی پر تین سو فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور وہاں سے علاقے کا خوبصورت نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ خانقاہ میں موجود اہلکاروں کے مطابق ان پہاڑیوں پر کبھی گھنا جنگل ہوتا تھا۔ انہوں نے درختوں کے ایک جھنڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک انگریز نے لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس انگریز نے کچھ زمین خریدی، وہاں درخت لگائے اور پھر وہاں چوکیدار بٹھا دیئے۔

جولیاں کی خانقاہ میں دو بڑے ہال تھے جہاں مختلف سائز کے اسٹوپہ تھے۔ اس خانقاہ کی خاص بات وہ چھوٹے چھوٹے کمرے ہیں جہاں بتایا جاتا ہے کہ بدھ مذہب کے ماننے والے میڈیٹیشن کرتے تھے۔

دونوں ہال سیاحوں کی دلچسپی کا باعث ہیں۔ وہاں اب بھی گوتم بدھ کے کچھ مسجمے سالم حالت میں موجود ہیں۔ رمضان کے مطابق بدھ مذہب کے ماننے والے وہاں آتے ہیں تو برکت کے لیے بدھ کے مجسموں کو چھوتے ہیں۔

محمد رمضان سے اگر پوچھا جائے تو اس مقام کی مذہبی اہمیت اب بھی کم نہیں ہے۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ راتوں کو وہاں سناٹا ہوتا اور عبادت کے لیے بہترین ماحول ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض راتوں کو سائے بھی گھومتے پھرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس پہاڑی پر رات کو انسان تو آ نہیں سکتا اس لیے جو انہوں نے دیکھا ہے وہ زندہ انسان کا سایا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ چاندنی راتوں کو سائے دیکھے جا سکتے ہیں۔

News image
جولیاں کی پہاڑی جہاں کبھی گھنا جنگل تھا

راہبوں کے میڈیٹیشن کے کمروں سے کچھ ہی فاصلے پر فرش کو پکا کر کے چھوٹی سی مسجد بھی بنائی گئی ہے جہاں محمد رمضان کے مطابق وہ راتوں کو سناٹے میں عبادت کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جولیاں کا اصل نام جائے ولیاں تھا جو بگڑ
کر جولیاں ہو گیا۔

جولیاں کی بنیاد سن دو عیسوی میں رکھی گئی اور کہا جاتا ہے کہ یہ سن پانچ عیسوی میں تباہ ہو گئی۔ غلام رسول نے بتایا کہ کچھ مقامی لوگ ان آثار کو پسند نہیں کرتے کیونکہ ان کے خیال میں یہاں بت موجود ہیں اور یہ بت پرستی کی جگہ تھی۔

محمد رمضان بی بی سی اردو سروس بھی بہت شوق سے سنتے ہیں گو کہ انہیں شکایت ہے کہ ’اس میں جب بھی مسلمانوں کا ذکر آتا ہے تو شدت پسند کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جبکہ دوسرے مذاہب کے لیے ایسا نہیں”۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بارہ سال سے بی بی سی سن رہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد