جولیاں کی خانقاہ کا آسیب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹیکسلا سے ہری پور جانے والی سڑک پر جولیاں کے مقام پر ایک ٹیلے پر گندھارا دور کی ایک خانقاہ کے آثار موجود ہیں جس کی تعمیر سن دو عیسوی میں کی گئی تھی اور سن پانچ عیسوی میں یہ خانقاہ تباہ ہو گئی۔ بی بی سی کی ٹیم جب اس خانقاہ پر پہنچی تو یہاں کے رکھوالے محمد رمضان نے ٹیم کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ’تمام چیزوں کے علم پر تو عبور حاصل نہیں کیا جا سکتا لیکن جو جانتے ہیں وہ بتائیں گے۔‘ محمد رمضان اور ان کے ساتھی اہلکار غلام رسول خانقاہ سے ملحقہ دو کمروں میں رہتے ہیں۔ ان کمروں میں ایک کونے میں چولہا ہے جس پر سردیوں میں وقت بے وقت چائے کے لیے آگ سلگتی رہتی ہے، کچھ چارپائیاں ہیں اور صفائی کا سامان۔ دیواریں دھویں سے کالی ہو چکی ہیں۔
کمروں کے دروازوں کے درمیان یاسمین کا پودا ہے جو چھت تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کمروں کی خستہ حالی ان کی اہمیت کو کم نہیں کرتی۔ محمد رمضان نے چائے کا کپ پیش کرتے ہوئے ایک چارپائی سیدھی کی اور بتایا کہ جس کمرے میں ہم بیٹھے ہوئے تھے وہ سر جان مارشل کا دفتر تھا اور دوسرا کمرا ان کے سٹور کا کام دیتا تھا۔ جان مارشل نے انیس سو تیرہ سے لے کر انیس سو چونتیس تک ٹیکسلا میں کھدائی کی تھی اور گندھارا تہذیب کو منظر عام پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ٹیکسلا کے عجائب گھر سے تقریباً چھ کلومیٹر کے فاصلے پر جولیاں کی قدیم خانقاہ کے یہ آثار قدر بہتر حالت میں موجود ہیں اور اس کی مذہبی اہمیت کی یاد دلاتے ہیں۔
خانقاہ ایک پہاڑی پر تین سو فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور وہاں سے علاقے کا خوبصورت نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ خانقاہ میں موجود اہلکاروں کے مطابق ان پہاڑیوں پر کبھی گھنا جنگل ہوتا تھا۔ انہوں نے درختوں کے ایک جھنڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک انگریز نے لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس انگریز نے کچھ زمین خریدی، وہاں درخت لگائے اور پھر وہاں چوکیدار بٹھا دیئے۔ جولیاں کی خانقاہ میں دو بڑے ہال تھے جہاں مختلف سائز کے اسٹوپہ تھے۔ اس خانقاہ کی خاص بات وہ چھوٹے چھوٹے کمرے ہیں جہاں بتایا جاتا ہے کہ بدھ مذہب کے ماننے والے میڈیٹیشن کرتے تھے۔ دونوں ہال سیاحوں کی دلچسپی کا باعث ہیں۔ وہاں اب بھی گوتم بدھ کے کچھ مسجمے سالم حالت میں موجود ہیں۔ رمضان کے مطابق بدھ مذہب کے ماننے والے وہاں آتے ہیں تو برکت کے لیے بدھ کے مجسموں کو چھوتے ہیں۔ محمد رمضان سے اگر پوچھا جائے تو اس مقام کی مذہبی اہمیت اب بھی کم نہیں ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ راتوں کو وہاں سناٹا ہوتا اور عبادت کے لیے بہترین ماحول ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض راتوں کو سائے بھی گھومتے پھرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس پہاڑی پر رات کو انسان تو آ نہیں سکتا اس لیے جو انہوں نے دیکھا ہے وہ زندہ انسان کا سایا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ چاندنی راتوں کو سائے دیکھے جا سکتے ہیں۔
راہبوں کے میڈیٹیشن کے کمروں سے کچھ ہی فاصلے پر فرش کو پکا کر کے چھوٹی سی مسجد بھی بنائی گئی ہے جہاں محمد رمضان کے مطابق وہ راتوں کو سناٹے میں عبادت کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جولیاں کا اصل نام جائے ولیاں تھا جو بگڑ جولیاں کی بنیاد سن دو عیسوی میں رکھی گئی اور کہا جاتا ہے کہ یہ سن پانچ عیسوی میں تباہ ہو گئی۔ غلام رسول نے بتایا کہ کچھ مقامی لوگ ان آثار کو پسند نہیں کرتے کیونکہ ان کے خیال میں یہاں بت موجود ہیں اور یہ بت پرستی کی جگہ تھی۔ محمد رمضان بی بی سی اردو سروس بھی بہت شوق سے سنتے ہیں گو کہ انہیں شکایت ہے کہ ’اس میں جب بھی مسلمانوں کا ذکر آتا ہے تو شدت پسند کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جبکہ دوسرے مذاہب کے لیے ایسا نہیں”۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بارہ سال سے بی بی سی سن رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||