احتجاج سے روکنے کیلیے قاضی نظربند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عملی طور پر معطل چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس افتخار محمد چودھری، کے خلاف تین اپریل کو صدارتی ریفرنس کی سماعت کے موقع پر حزب مخالف کے احتجاج کو روکنے کے لیے پولیس نے سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریوں کے لیے چھاپوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ایم ایم اے کے رہنماء قاضی حسین احمد کو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کر دیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی کے ترجمان شاہد شمسی کے مطابق قاضی حسین احمد اپنی رہائش گاہ سے باہر جانے کے لیے نکلے تو پولیس نے انہیں روک دیا اور کہا کہ ان کے باہر جانے پر پابندی ہے۔
پیپلز پارٹی سیکریٹریٹ کے ترجمان ابن رضوی کے مطابق راولپنڈی میں ان کے ایک سرکردہ کارکن میاں عمران اسلم کے گھر پولیس نے چھاپہ مارا، لیکن ان کے گھر پر موجود نہ ہونے پر پولیس ان کے چھوٹے بھائی کو پکڑ کر لے گئی ہے۔ حزب مخالف کی جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے چھاپوں اور گرفتاریوں کے باوجود تین اپریل کو سپریم کورٹ کے سامنے بھرپور احتجاج ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے ترجمان کے مطابق ان کے سرکردہ رہنما مخدوم امین فہیم کی سربراہی میں پیپلز سیکریٹریٹ سے منگل کی صبح جلوس سپریم کورٹ کی طرف روانہ ہوگا۔ | اسی بارے میں کئی جج مستعفی، مظاہرے اور ہڑتالیں جاری19 March, 2007 | پاکستان لاہور میں جھڑپیں، متعدد زخمی17 March, 2007 | پاکستان لاہور، اسلام آباد: مظاہرے، جھڑپیں اورگرفتاریاں16 March, 2007 | پاکستان حراست: قاضی، تارڑ، حافظ حسین 16 March, 2007 | پاکستان جماعت کی کل جماعتی کانفرنس12 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||