BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 March, 2007, 08:25 GMT 13:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوادر پورٹ کا افتتاح آج

گوادر کی بندرگاہ میں مقامی آبادی کو بھرتی کرنے کے وعدے کیئے جا رہے ہیں
صدر جنرل پرویز مشرف آج گوادر میں گہرنے پانی کی بندر گاہ کا افتتاح کریں گے جس کے لیے گوادر میں سخت حفاظتی انتظامات کیئے گئے ہیں لیکن اس دوران رات گئےگوادر شہر میں دھماکے کی آواز سنی گئی ہے۔

وزیر اعظم شوکت عزیز ’وفاقی کابینہ کے ارکان کے علاوہ بلوچستان کے وزیر اعلی، گورنر اور صوبائی وزراء پہلے سے گوادر میں موجود ہیں۔ گزشتہ روز وفاقی کابینہ کا اجلاس گوادر میں ہوا تھا جس میں علاقے کی ترقی کے حوالے سے بات چیت ہوئی لیکن حکومت کی طرف سے کوئی اہم اعلان سامنے نہیں آیا۔

گوادر میں بے روزگار نوجوانوں نے منگل کو گوادر پورٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔ بے روزگار نوجوانوں کا کہنا ہے کہ کراچی سے تعلق رکھنے والے پچیس نوجوانوں کو نوکریاں دی گئی ہیں جبکہ گوادر سے تعلق رکھنے والے پینتیس تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ نوجوانوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ان نوجوانوں نے گزشتہ روز گوادر پورٹ اتھارٹی کے دفتر کا گھیراؤ بھی کیا۔

گوادر میں کل رات گئے دھماکے کی آواز سنی گئی ہے لیکن کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ یہ دھماکہ پورٹ کمپلیکس کی چار دیواری کے ساتھ ہوا ہے۔

گوادر میں گہرے پانی کی بندرگاہ کا منصوبہ چین کی مدد سے دو سو اڑتالیس ارب ڈالر سے مکمل کیا جا رہا ہے جس کا پہلا مرحلہ سن دو ہزار پانچ میں مکمل ہوچکا تھا۔

کراچی اور پورٹ قاسم کے بعد یہ پاکستان کا تیسرا پورٹ ہے لیکن اس کی نمایاں خصوصیت اس کی آزاد تجارت ہوگی۔

بلوچستان میں قوم پرست جماعتیں اس منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اس منصوبے سے بلوچستان کے لوگ اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے بلوچ قائدین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی کل آبادی ستر لاکھ ہے اور گوادر کو اگر کراچی جیسا شہر بنا دیا جاتا ہے تو اس کی آبادی ڈیڑھ کروڑ ہو گی اس میں بلوچستانی کہاں نظر آئیں گے۔ یہ پنجاب اور فوجی حکمرانوں کا منصوبہ ہے جو بلوچستان کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں
گوادر پورٹ سنگاپور کے حوالے
06 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد