کالعدم تنظیم کے رکن گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سکھر پولیس نے خود کش بم حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے کی شبہے میں مزید ایک ملزم کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔ ڈی پی او سکھر مظہر شیخ کا کہنا ہے کہ جلیل ابابکی کو کچھ روز قبل گرفتار ہونے والے تین ملزموں کی نشاندہی پر گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کا تعلق لشکر جھنگوی عثمان عرف سیف اللہ کرد گروپ سے بتایا جاتا ہے۔ پولیس کے مطابق جلیل ابابکی دہشت گردی کی سنگین وارداتوں میں ملوث ہے۔ بلوچستان حکومت نے اس کی گرفتاری پر دس لاکھ روپے انعام بھی مقرر کر رکھا تھا۔ مظہر شیخ نے بتایا کہ ملزم سال دو ہزار تین کو پولیس ٹریننگ کیمپ کوئٹہ پر حملے میں بھی شامل تھا جس میں فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والے تیرہ زیرِ تربیت پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ اس طرح دو ہزار چار کو ڈیرہ مراد جمالی میں ایک اور حملے میں پینتالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ڈی ایس پی نثار حسین کاظمی کے قتل کیس میں بھی مطلوب تھا۔ ڈی پی او سکھر نے بتایا کہ سولہ فروری کو گرفتار ہونے والے تین مشتبہ خودکش بمباروں کی نشاندھی پر جلیل ابابکی کی نگرانی کی جا رہی تھی۔ جیسے ہی وہ کوئٹہ کے سریاب روڈ سے کوچ میں سکھر کے لیے سوار ہوا تو اس کے موبائل فون کو ٹریس کیا گیا اور اسے سکھر پہنچنے پر گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے جلیل ابابکی سے ایک پستول بھی برآمد کیا ہے۔ ڈی پی او سکھر کا کہنا تھا کہ ان ملزموں کی اندرون سندھ موجودگی کی ایک وجہ پہلے کی گئی وارداتوں کے بعد یہاں روپوشی اور یہاں کوئی واردات کا ارادہ بھی ہوسکتا ہے مگر جو شواہد اور چیزیں ملی ہیں ان سے یہ ہی لگتا ہے کہ ان کا یہاں واردات کرنے کا ارادہ تھا کیونکہ محرم کے سلسلے میں سکھر اور روہڑی میں بہت مجالس اور جلوس نکالے جاتے ہیں۔ اس سے قبل سکھر پولیس نے چہلم کے جلوس پر خود کش بم حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں محمد علی، عبداللہ اور نصیر احمد کو گرفتار کیا تھا۔ گزشتہ ایک ماہ میں خود کش بم حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں کراچی، حیدرآباد اور سکھر سے نو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ کراچی میں پولیس نے تین مشتبہ خود کش بمباروں شاہد، فرحان اور عبدالغنی کو گرفتار کیا تھا جن کے بارے میں سی آئی ڈی پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے دفاعی اسحلے سازی کی نمائش ’آئیڈیاز دو ہزار چھ‘ اور دس محرم کو حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ بعد میں کراچی پولیس نے ان ملزموں کی نشاندہی پر حیدرآباد کی ڈیپلائی کالونی میں سے شعیب عرف طارق اور قاری اعجاز کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار تمام ملزمان کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے عثمان کرد اور قاری ظفر گروپ سے ہے ۔ قاری ظفر کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ القاعدہ کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ | اسی بارے میں کراچی: مشتبہ خودکش بمبارگرفتار16 February, 2007 | پاکستان اسلحہ نمائش، کڑے حفاظتی انتظامات20 November, 2006 | پاکستان کراچی: ڈبل سواری پر پابندی14 November, 2006 | پاکستان کوئٹہ میں کرفیو اٹھا لیا گیا20 March, 2004 | پاکستان بلوچستان کے لیے ناخوشگوار سال01 January, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||