BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 November, 2006, 18:48 GMT 23:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلحہ نمائش، کڑے حفاظتی انتظامات

مندوبین کی گزرگاہوں کے اطراف میں رہائش پذیر شہریوں کی باقاعدہ فہرست تیار کی گئی ہے
صدر جنرل پرویز مشرف نے کراچی میں اسلحے کی چار روزہ بین الاقوامی نمائش آئیڈیاز دو ہزار چھ کا افتتاح کیا ہے۔ہر دو برس بعد منعقد ہونے والی یہ چوتھی نمائش ہے جس کا مقصد بین الاقوامی منڈی میں پاکستانی اسلحے کی فروخت کو بڑھاوا دینا ہے۔

آئیڈیاز دو ہزار چھ میں اکسٹھ پاکستانی کمپنیوں سمیت ستائیس ممالک کے علاوہ دو سو ادارے شرکت کررہے ہیں۔ بھارت کے علاوہ سارک کے دیگر رکن ممالک کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔لیکن سارک ممالک کی کوئی کمپنی نمائش میں شامل نہیں ہے۔البتہ یہ ارکان ان پچھتر ممالک میں شامل ہیں جن کے وفود نمائش دیکھیں گے۔

سب سے بڑا فوجی وفد ترکی کا ہے جبکہ سب سے زیادہ سٹال جرمنی کے ہیں یعنی چوبیس۔ برطانیہ کی سولہ کمپنیوں میں رولس رائس اور بی اے ای الکٹرونکس، فرانس کی آٹھ کمپنیوں میں آبدوز ساز ادارہ ڈی سی این، سویڈن کا طیارہ ساز ادارہ ساب اور بوئنگ، لاک ہیڈ اور پریٹ اینڈ وٹنی سمیت تئیس امریکی ادارے بھی نمائش کا حصہ ہیں۔

پاکستان کے اسلحہ برآمد کرنے والے ادارے ڈی ای پی او کے سربراہ میجر جنرل ابصار حسین کا کہنا ہے کہ موجودہ نمائش میں مقامی طور پر تیار کردہ الخالد ٹینک کے اپ گریڈ ماڈل کے علاوہ پہلی مرتبہ مقامی طور پر تیار شدہ بکتر بند گاڑیوں کا جدید ماڈل اور نگرانی کرنے والے بغیر پائلٹ کے طیارے بھی رکھے جارہے ہیں۔

نمائش میں پاکستان چین مشترکہ طیارے ایف سیون تھنڈر کا ماڈل بھی رکھا گیا ہے۔ان طیاروں کی پہلی کھیپ دو برس بعد نکلنی شروع ہوگی۔طیارہ ساز ادارے کامرہ ایرو ناٹیکل کمپلیکس کے سربراہ ایر مارشل خالد چوہدری نے اس تاثر کی تردید کی کہ یہ منصوبہ مشکلات کا شکار ہے کیونکہ طیارے میں روسی ساختہ انجن نصب کئے جائیں گے اور روس کو اس بارے میں تحفظات ہیں کہ چین یہ انجن کسی تیسرے ملک کو فراہم کرے۔

چار روزہ نمائش کو تقریباً چھبیس ہزار منتخب افراد دیکھیں گے۔تاہم گذشتہ ایک ہفتے سے اس ضمن میں سیکیورٹی کے جو غیر معمولی انتظامات دیکھنے میں آ رہے ہیں ان کے سبب ٹریفک جام سے لاکھوں شہری متاثر ہورہے ہیں۔نمائش کے اطراف کچھ سڑکیں عام لوگوں کے لئے بند ہیں۔احتیاطی قدم کے طور پر موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پندرہ روز کی پابندی ہے۔

نمائش گاہ کے اردگرد اور مندوبین کی آمدورفت کے لئے استعمال ہونے والی شاہراہوں کے اطراف رہائش پذیر شہریوں کی باقاعدہ فہرست تیار کی گئی ہے اور انہیں خبردار کیا گیا ہے کہ نمائش کے عرصے کے دوران وہ گھر میں کسی مہمان کو ٹھہرانے سے پرہیز کریں۔

ان مشکلات کے پس منظر میں اسلحے کی برآمد کے ادارے کے سربراہ میجر جنرل ابصار حسین کا کہنا ہے کہ سن دو ہزار آٹھ میں جو نمائش ہوگی اسے شہر سے باہر منعقد کرنے پر غور کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد