’پاکستانی مسافروں سے تفتیش ناانصافی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیرِ ریلوے شیخ رشید احمد نے متاثرہ سمجھوتہ ایکسپریس کے بعض پاکستانی مسافروں کو پوچھ گچھ کے لیے روکے جانے پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت فوی الفور پاکستانی شہریوں کو واپس روانہ کرے اور ہلاک شدگان کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ تین پاکستانی شہریوں رانا شوکت، اقصیٰ اور رخسانہ کو تفتیش کے لیے بھارت نے روک لیا ہے جو کہ ناانصافی ہے اور اس پر نئی دلی میں قائم پاکستانی ہائی کمیشن نے بھی سخت احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریل سانحے کو کئی روز گزر چکے ہیں اور تاحال بھارت نے ہلاک اور زخمی ہونے والے پاکستانیوں کے بارے میں مکمل معلومات فراہم نہیں کیں۔ وزیرِ ریلوے نے کہا کہ’اگر ایسا واقعہ پاکستان میں ہوتا اور انہیں معلومات نہیں ملتیں تو وہ قیامت برپا کر دیتے‘۔ ان کے مطابق پوری صورتحال کے بارے میں وزیراعظم شوکت عزیز نے ’مِنی کابینہ‘ کا اجلاس بلایا تھا جس میں صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے بھی اجلاس کو بریفنگ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسافروں کو پنجروں میں لانے جیسے طرزِ عمل کا حکومت نے نوٹس لیا ہے اور اس بارے میں بھارتی حکومت سے بات کی جائےگی کہ آئندہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اس دوران مسلم لیگ نواز کے رکن خواجہ آصف نے کہا کہ وزیر نے ایوان میں بیان دے کر اقرار کیا ہے کہ حکومت کی خارجہ پالیسی ناکام ہوچکی ہے اور بھارت ایسا سلوک اس لیے کر رہا ہے کیونکہ ان کے بقول صدر جنرل پرویز مشرف چھ سال سے انڈیا کی منت سماجت کرتا آرہا ہے۔ واضح رہے کہ دلی سے اٹاری آنے والی ریل گاڑی میں اٹھارہ اور انیس فروری کی درمیانی شب پانی پت کے قریب مبینہ طور پر دھماکوں کے بعد آگ لگ گئی تھی جس کے نتیجے میں اڑسٹھ مسافر ہلاک ہوگئے تھے۔ | اسی بارے میں ’دھماکوں کی تحقیقات کرائیں‘19 February, 2007 | پاکستان ’محمد عثمان کی سلامتی پرتشویش‘22 February, 2007 | پاکستان سمجھوتہ کے زخمی پاکستان پہنچ گئے22 February, 2007 | پاکستان لاہور: لواحقین کو ویزے جاری20 February, 2007 | پاکستان سمجھوتہ کے مسافر کراچی پہنچ گئے20 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||