تھر ایکسپریس، تمام ٹکٹ فروخت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان کھوکھراپار کے راستے چلنے والی ریل سروس چھ ماہ کے بعد سنیچر کو بحال ہو رہی ہے۔ تھر ایکسپریس کے تمام ٹکٹ بکنگ کے پہلے ہی دن یعنی جمعرات کو چند گھنٹوں میں فروخت ہوگئے ہیں۔ گزشتہ سال اگست میں شدید بارشوں کے بعد بھارتی حکومت نے کھوکرا پار موناباؤ ریلوے سروس معطل کردی تھی، جو سنیچر کو پھر سے بحال کی جارہی ہے۔ تھر ایکسپریس کے ٹکٹوں کی بکنگ کراچی کے سٹی سٹیشن سے کی جا رہی تھی۔ کراچی ریلوے کے ڈویزنل سپرنٹینڈنٹ میر محمد خاصخیلی نے بی بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی رات کراچی کینٹ سٹیشن سے تھر ایکسپریس ہندوستان جانے والے ایک سو چار مسافروں کو لے کر زیرو پوانئٹ روانہ ہوگی، جہاں سے یہ لوگ ہندوستان سے آنے والی ٹرین میں سوار ہوں گے۔ تھر ایکسپریس کی سروس ایک مرتبہ پھر بحال ہوگئی ہے مگر کراچی میں بھارت کا سفارتخانہ ابھی تک بند ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے شہریوں کو ویزہ کے لیے اسلام آباد جانا پڑ رہا ہے۔ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ کراچی میں ویزہ سیکشن قائم کیا جائے۔ کراچی سٹی سٹیشن پر موجود محمد فرید کا، جوگجرات کے علاقے صورت میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے جا رہے ہیں، کہنا ہے اگر کراچی میں ویزہ آفیس کھل جائے تو عوام کے لیے آسانی پیدا ہوجائے گی۔ محمد فرید نے کورئیر سے ویزہ منگوایا ہے جس میں ان کے مطابق ڈھائی سے تین ماہ لگ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد جانے سے پانچ چھ ہزار روپے تک خرچ ہوجاتے ہیں۔’ اتنے پیسوں میں تو دونوں طرف ٹرین کا کرایہ ہوجاتا ہے۔‘
عبدالغنی انصاری کی پیدائش ہندوستان کی ہے جہاں بنارس میں ان کی ماں رہتی ہیں ، جن سے ملاقات کے لیے وہ ہندوستان جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں حکومتوں کو سوچنا چاہیئے کہ وہ محبت کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن عمل نہیں کرتے۔ ’ساری بات عمل سے پیدا ہوتی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ تھر ایکسپریس اور کراچی میں ویزہ آفیس کھلنے کا انتظار کرتے کرتے وہ تھک گئے ہیں۔ ’اب ساٹھ برس کے بعد یہ سہولت مہیا کی جاری ہے، انہیں تو یہ پہلے کرنا چاہیئے تھا۔‘ عبدالستار نے، جو ٹانگوں سے معذور ہیں، تھر ایکسپریس کی بحالی پر خوشی کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق وہ اپنی بہنوں سے ملنے کے لیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تھر ایکسپریس کا سفر مختصر ہے جبکہ اٹاری سے انہیں طویل سفر کرنا پڑتا ہے۔ وہ کراچی سے دو دن میں پہنچ جائیں گے جبکہ اٹاری سے انہیں چار دن لگ جاتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت نے گزشتہ سال سترہ فروری کو کھوکراپار سرحد سے سفری رابطہ بحال کیا تھا۔ یہ رابطہ انیس سو پینسٹھ کی جنگ کے بعد منقطع ہوگیا تھا۔ میرپورخاص سے زیرو پوائنٹ تک ریلوے حکام نے تھرایکسپریس کے لیے نئی ریلوے لائین بچھائی تھی جس وجہ سے ٹرین کی رفتار کم رکھی گئی تھی مگر اب اس رفتار میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ ڈی ایس ریلوے کے مطابق میرپورخاص سے زیرو پوائنٹ کا سفر جو پہلے ساڑھ تین گھنٹے میں طے ہوتا تھا اب ڈھائی گھنٹے میں ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ریلوے سٹیشن کی عمارت کی تعمیر کے لیے بھی تجاویز حکام کو بھیج دی گئیں ہیں۔ ان کے مطابق اس بات کا فیصلہ حکومت کرے گی کہ یہ عمارت زیرو پوائنٹ پر بنے گی یا کھوکراپار میں۔ | اسی بارے میں تھر ایکسپریس میں مزید تاخیر 20 January, 2007 | پاکستان تھر ایکسپریس دس فروری سے10 December, 2006 | پاکستان تھر ایکسپریس دس فروری سے09 December, 2006 | پاکستان تھر ایکسپریس تئیس دسمبر سے03 November, 2006 | پاکستان تھر ایکسپریس: دو ماہ کے لیئےمعطل 14 September, 2006 | پاکستان تھر ایکسپریس حیدرآباد سے 04 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||