BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 February, 2007, 14:18 GMT 19:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سائیں کیا خاطر کریں۔۔۔

اس بچے کا گردہ پتھری اور انفیکشن کی وجہ سے نکالا جا چکا ہے
’سر آپ جس سے کہیں گے ملواؤں گا لیکن میں خود آپ کے ہمراہ نہیں ہوں گا بلکہ ایک دوست کو آپ کے ساتھ کردوں گا۔ وہ آپ کے لیے بلوچی سے ترجمہ بھی کرے گا۔ بے گھروں سے بھی ملوائے گا۔ مگر پلیز آپ میرا نام نہ لینا۔ بس میں آپ کے ساتھ جعفر آباد تک چلوں گا اور اس کے حوالے کردوں گا‘۔

میں نے کہا ٹھیک ہے۔

اور یوں جیکب آباد کے ایک گاؤں سے علی الصبح سفر کا آغاز ہوا۔ پینتالیس منٹ میں ہم بلوچستان کے سرحدی شہر جعفر آباد میں داخل ہوگئے۔ شہر کے آغاز میں گاڑی ایک گلی میں مڑگئی ایک اور صاحب خاموشی سے ایک گھر سے نکلے اور پیچھے بیٹھ گئے۔ جب گاڑی کے پہیے حرکت میں آئے تو انہوں نے بلوچی انداز میں حال احوال شروع کیا۔ میں نے اپنا فرمائشی مینیو ان کے سامنے رکھ دیا۔ جواب ملا بے فکر رہیں سب ہو جائے گا۔

میرے اس علاقے میں آنے کا محرک کوئی ڈیڑھ دو ماہ قبل شائع ہونے والی یہ خبر تھی کہ اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور دیگر انسانی امدادی اداروں کو حکومتِ پاکستان اور بلوچستان کی صوبائی حکومت نے پہلی مرتبہ اجازت دی ہے کہ بلوچستان کے دو اضلاع ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں جاری فوجی آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کو انسانی امداد پہنچائی جاسکتی ہے۔ ان اداروں کا اندازہ ہے کہ کم ازکم چوراسی ہزار بگٹی اور مری پچھلے دو برس کے دوران دربدر ہوئے ہیں اور ان کی زیادہ تعداد نےجعفر آباد، نصیر آباد اور ان سے متصل سندھ کے علاقے کشمور اور کندھ کوٹ کی جانب نقل مکانی کی ہے۔ جبکہ بہت سے لوگ کوئٹہ کی طرف بھی نکلے ہیں اور یہ دربدر خاصی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

بلوچ پناہ گزین
یہ دربدر خاصی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں

جعفر آباد پہلے ضلع نصیر آباد کا ہی حصہ تھا جسے قریباً دس برس پہلے ایک نیا ضلع بنایا گیا۔ ون یونٹ بننے سے قبل یہ ضلع جھٹ پٹ کے نام سے مشہور تھا اور صوبہ سندھ میں شامل تھا۔ چنانچہ دیگر علاقوں سے یہاں آنے والے بلوچ اسے آج بھی سندھ کے نام سے جانتے ہیں۔ شاید یہی نفسیاتی وجہ ہے کہ بگٹیوں کی خاصی تعداد نے اسے دوسرا صوبہ تصور کرتے ہوئے یہاں پناہ لینے کی کوشش کی۔

شہر کا بازار پار کرنے کے بعد گاڑی دوڑ رہی ہے۔ اچانک دائیں جانب کچھ جھونپڑی نما چیزیں نظر آئیں۔ میرے گائیڈ نے اشارہ کیا: ’سر یہ آپ کے وہ دوست ہیں جن سے آپ ملنے آئے ہیں‘۔

ہم دونوں کھیت پار کرکے ان تک پہنچے۔ ایک دادی اماں جو شاید بیمار تھیں یا پھر ضعیف، ایک ایسی جھونپڑی نما چھپر تلے رضائی میں پوری طرح لپٹی بیٹھی تھیں جہاں ان کے علاوہ کسی دوسرے کے بیٹھنے کی گنجائش نہیں تھی۔

بلوچ پناہ گزین
محمد کالونی کے ایک مزدور سعید خان کی والدہ

یہ بزرگ خاتون سوئی کے علاقے محمد کالونی کے ایک مزدور سعید خان کی والدہ تھیں۔ سعید خان نے نادرا کا جاری کردہ اپنا شناختی کارڈ جھٹ سے کوٹ کی لٹکی ہوئی جیب سے نکالا۔ کوٹ کیا تھا کچھ چیتھڑے لٹکے ہوئے تھے۔

سعید خان نے بتایا: ’دسمبر دوہزار پانچ میں جب سے ہم نے گھر چھوڑا ہے حکومت نے صرف یہ مدد کی ہے کہ نادرا کی گاڑی نے یہاں بیٹھے بیٹھےسب کا شناختی کارڈ بنا دیا‘۔ اس خالی زمین میں سعید خان کے تین بھائیوں اور سسرالیوں سمیت سات گھرانوں کے تئیس چھوٹے بڑے نفوس ڈنڈوں پر پھٹے پرانے کپڑے اور خشک گھاس کی چھت سی تانے سر چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔ کیا آپ نے ایسی جھونپڑی دیکھی ہے جو تین طرف سے کھلی ہوئی ہو۔

سعید خان کے دو بھائی تلاشِ معاش کے لیے حیدرآباد کی طرف نکل گئے۔ میں نے پوچھا گزارہ کیسے ہوتا ہے؟ کہنے لگا دھان کی فصل کا ایک ایکڑ کاٹنے پر ایک من چاول ملتا تھا۔ چار مہینے یہ کام کیا۔ اب ابلے ہوئے چاول کھاتے ہیں اور یہ جو سامنے پانی جمع ہے اسے ابال کر پیتے ہیں۔ اتنے میں ایک بچہ ابلے ہوئے چاول کی دیگچی اٹھا لایا۔ جوہڑ کے ابلے ہوئے پانی میں ابلے ہوئے چاول۔ ’سائیں آپ کی کیا خاطر کریں بس یہی ہے‘۔

گاڑی آگے بڑھتی چلی گئی۔ ایک بڑی سی کچی چار دیواری نظر آئی۔ گاڑی مڑ گئی۔ دو نوجوان اور کچھ بچے۔ دوتین بچوں کے ہاتھ میں مڑے تڑے سے پہلی جماعت کے قاعدے تھے۔ علی محمد نے بتایا کہ یہ اس نے اپنی جیب سے خریدکر کچھ بچوں کو دیے ہیں۔

کوئی بچہ پڑھنا چاہے تو علی محمد اسے پڑھا دیتا ہے

علی محمد خضدار میں پڑھتا تھا لیکن جب اس کے خاندان نے ڈیرہ بگٹی کے نواح سے نقلِ مکانی کی تو وہ بھی خضدار سے پڑھائی چھوڑ چھاڑ کر پناہ گزینوں کے دستے سے آن ملا۔ جب بھی کوئی بچہ پڑھنا چاہتا ہے علی محمد اسے پڑھا دیتا ہے۔ علی احمد کا یہ خودساختہ تعلیمی ادارہ غالباً واحد سکول ہے جو استاد سے زیادہ بچوں کے موڈ پر چلتا ہے۔

علی محمد نے بتایا کہ بہت پہلے امدادی ادارے اوکسفیم والے آئے تھے۔ انہوں نے کچھ خیمے اور دریاں دیں۔ پھر کچھ دن پہلے ایدھی والے آئے انہوں نے پندرہ کلو چاول، دس کلو چینی، گھی کا دس کلو کا ڈبہ اور تین رضائیاں فی خاندان دیں۔ کچھ دنوں کے لیے چاول چھڑنے کے ایک مقامی کارخانے میں دیہاڑی ملی تھی۔ آج کل وہاں کام بند ہے۔ میں نے پوچھا واپس کیوں نہیں جاتے اب تو لڑائی بھی تھم گئی ہے اور نواب بھی نہیں رہا۔ کہنے لگا کیا کریں جا کر۔ غیرت گوارہ نہیں کرتی۔

علی محمد کے کزن شاہ محمد دیناری کلپر کی دو سو ایکڑ زمین تھی۔ جب سال بھر پہلے لڑائی تیز ہوگئی اور راکٹ گولے معمول بن گئے تو اس کے سو کے لگ بھگ رشتہ داروں نے ایک ساتھ زمین چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ شاہ محمد کے بقول دو ٹریکٹر ٹرالیوں میں جتنے لوگ آ سکتے تھے چڑھ گئے۔ ایک ٹریکٹر والے نے تین ہزار اور دوسرے نے دوہزار روپے لیے اور اب ہم اس چار دیواری میں رہتے ہیں۔ اگر آپ اسے اندر سے دیکھنا چاہیں۔

کیا خاطر کریں۔۔۔
 ابلے ہوئے چاول کھاتے ہیں اور یہ جو سامنے پانی جمع ہے اسے ابال کر پیتے ہیں۔ اتنے میں ایک بچہ ابلے ہوئے چاول کی دیگچی اٹھا لایا۔ جوہڑ کے ابلے ہوئے پانی میں ابلے ہوئے چاول۔ سائیں آپ کی کیا خاطر کریں بس یہی ہے۔
سعید خان

اندر کا احاطہ اتنا بڑا ہے کہ اس میں بارہ پندرہ خیمے لگے ہوئے تھے۔ کاٹن کی شلوار قمیض پہنے سردی میں کھلے گریبان بچوں کے ہمراہ کچھ بکریاں اور مرغیاں بھی ادھر ادھر دوڑ رہی تھیں۔

شاہ محمد کلپر نے بتایا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ صاف پانی کا ہے۔ ’ہم سب سیم نالے کا پانی پینے پر مجبور ہیں۔اس پانی میں فصلوں پر چھڑکا جانے والا کیمیکل بھی ملا ہوتا ہے۔ شہر سے صاف پانی خرید کر لانے کی اوقات نہیں ہے‘۔ اس کی وجہ سے پتھری اور ہیپی ٹائیٹس عام ہے۔ دو بچوں نے اپنی قمیضیں اٹھا دیں۔ ان کا ایک ایک گردہ پتھری اور انفیکشن کی وجہ سے نکالا جا چکا تھا۔

میں نے کچھ اور لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی بھی مائیکروفون دیکھ کر آمادہ نہ ہوا۔ علی محمد کہنے لگا ہمیں کسی سے کچھ نہیں چاہیے بس ہم اس چاردیواری میں چھپے رہنا چاہتے ہیں۔ میں نے پوچھا یہ چار دیواری کس کی ہے۔ کہنے لگا نام بتانا اچھا نہیں ہے بس اللہ کے کسی بندے نے ہمیں دے دی ہے۔

( اس تحریر کا دوسرا حصہ آئندہ پیش کیاجائے گا)

اسی بارے میں
’بگٹی کے مال مویشی نیلام‘
30 December, 2006 | پاکستان
’گمشدگیوں‘ کا سلسلہ جاری
17 January, 2007 | پاکستان
’بلوچستان آپریشن بند کریں‘
11 December, 2006 | پاکستان
سابق فراری بگتی کمانڈر ہلاک
19 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد