BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 January, 2007, 18:06 GMT 23:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زخمی چہرہ، سہمی آنکھیں

ملزم کا کہنا ہے کہ اس نے غیرت میں آکر یہ قدم اٹھایا
نئی دلہن کے چہرے پر تو خوشی کی لالی اور آنکھوں میں چمک ہوتی ہے مگر پندرہ سالہ ارشاد چانڈیو کے چہرے پر زخم اور آنکھوں میں خوف کے سائے ہیں۔

معصوم ارشاد نے بغیر کسی سوال کیے اپنے والدین کی خواہش پر اپنے والد کی عمر کے شخص سے شادی کرلی تھی، جو اس کی تباہی کا ذمہ دار نکلا۔

سندھ کے علاقے شہداد کوٹ کی رہنے والی پندرہ سالہ ارشاد چانڈیو کو دس روز قبل شادی کی رات اس کے شوہر میاں بخش نے کاری قرار دیا تھا اور صبح ہوتے ہی اس کے منہ پر فائر کرکے شدید زخمی کردیا جبکہ بارہ سال لڑکے حبدار کو قتل کردیا۔

پولیس نے ملزم میاں بخش کو دو رشتہ داروں سمیت گرفتار کرلیا ہے۔ ملزم نے پولیس کو بتایا ہے کہ حبدار اور ارشاد کے تعلقات تھے اس نے غیرت میں آکر یہ قدم اٹھایا ہے۔

زخمی ارشاد چانڈیو کراچی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہے جہاں اس کی زندگی کی ڈور آکسیجن کی نلکی کے ساتھ بندھی ہے۔ مہندی رنگے ہاتھوں پر انجکشن کے نشانات ہیں اور وہ بات کرنے سے قاصر ہے۔

ارشاد کی والدہ تاج بی بی نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم میاں بخش پہلے سے شادی شدہ اور پانچ بچوں کا باپ ہے، ان کے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے اس لیے لڑکی کے دادا نے لالچ میں آکر اپنی پوتی کا رشتہ میاں بخش کو دے دیا اور بدلے میں ان کے بارہ سالہ بیٹے وارث علی کے لیے میاں بخش کی بیٹی کا رشتہ لیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ شادی سے قبل میاں بخش نے کبھی کسی شک شبہے کا اظہار نہیں کیا تھا۔ ’شادی کی اگلی صبح وہ بندوق لے کر آیا اور اپنی پہلی بیوی کے بارے میں پوچھا اور بعد میں دلہن کے کمرے میں چلا گیا اور گولی چلنے کی آواز آئی جس کے بعد وہ دوڑتا ہوا باہر نکل گیا‘۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی دلہن بیٹی لہو لہان ہوگئی، ’اس کے چہرے سے خون فوارے کے طرح نکل رہا تھا‘۔ ان کے مطابق ظالم نے سمجھا کہ ارشاد مرگئی ہے مگر اللہ نے اسے بچالیا۔

ارشاد بی بی
زخمی ارشاد بی بی ہسپتال میں اپنی والدہ کے ساتھ

تاج بی بی کے مطابق ملزم نے باہر جاکر بارہ سالہ حبدار پر، جو اس وقت ناشتے کے لئے پاپے لینے جارہا تھا، فائر کیا جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔

تاج بی بی کھیتوں پر کام کرکے گزر بسر کرتی ہے۔ ان کی آٹھ بیٹیاں اور ایک بارہ سالہ بیٹا ہے جو واقعے کے بعد سہمے ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ملزم نے اپنے رشتہ داروں کے ذریعے پیغام بھیجا ہے کہ ایک بار تو ارشاد بچ گئی ہے مگر اگلی بار نہیں بچ سکے گی، اس کے کراچی میں بھی رشتہ دار ہیں جس وجہ سے وہ خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔

شہدادکوٹ پولیس نے ملزم میاں بخش کو دو رشتیداروں سمیت گرفتار کرلیا ہے، تفتیشی پولیس کے مطابق ملزم نے الزام لگایا ہے کہ اس نے شادی کی رات لڑکی کو کنوارہ نہیں پایا اور لڑکی نے اسے بتایا کہ اس کے حبدار چانڈیو سے تعلقات تھے، اس لئے اس نے غیرت میں آکر یہ سب کچھ کیا ہے۔

ارشاد چانڈیو کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ ایک ماہ تک ہسپتال میں زیر علاج رہے گی، کارتوس کے چھرے لگنے سے اس کا چہرا بری طرح زخمی ہوگیا ہے، جسے مرہم پٹی کرکے درست کیا جارہا ہے مگر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس کے چہرے پر زخموں کے کچھ نشانات باقی رہیں گے۔

اسی بارے میں
ونی :سپریم کورٹ میں سماعت
24 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد