BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 January, 2007, 10:25 GMT 15:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: فیکٹری میں آگ سے چار ہلاک

پانچ سے زیادہ لوگ اب بھی ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔
کراچی کے صنعتی علاقے سائٹ میں ایک فیکٹری میں پیر کی شام کو لگنے والی آگ میں اب تک پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

گو آگ مکمل طور پر بجھائی جا چکی ہے لیکن تباہ شدہ عمارت کے ملبے تلے دبے پانچ سے زیادہ افراد کے بارے میں ابھی تک یقین سی نہیں کہا جا سکتا کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں۔

ان پانچ افراد کا تعلق بھی فائر بریگیڈ سے ہے اور ان کے رشتہ دار منگل کی شام تک عمارت کے باہر کھڑے اپنے عزیزوں کی سلامتی کی دعائیں مانگتے رہے۔

بری طرح سے جلی ہوئی عمارت کی حالت اس قدر خستہ ہے کہ ملبے میں دبے ہوئے افراد کی تلاش کے لیے عمارت کے اندر جانے کو کوئی بھی تیار نہیں۔

چوبیس گھنٹے کی محنت کے بعد کراچی فائر بریگیڈ کا عملہ تھکن سے نڈھال عمارت کی چاردیواری سے باہر نکل آیا ہے اور ریسکیو آپریشن پاک بحریہ نے سنبھال لیا ہے۔

فائر بریگیڈ کے پانچ افراد کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ آگ میں ہلاک ہو گئے

عملے کے ارکان کا کہنا ہے کہ ملبے تلے پھنسے لوگوں کے بچنے کی امید ختم ہوتی جا رہی ہے۔

پیر کی صبح ایک کلاتھ فیکٹری میں آگ لگنے کے بعد تین منزلہ عمارت زمین بوس ہوگئی تھی۔ جس میں فائر بریگیڈ کے چار ملازمین دب کر ہلاک ہوگئے تھے جبکہ دس سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

کراچی فائر بریگیڈ کے کنٹرول روم کے انچارج لیاقت ظفر فاروقی نے بی بی سی کو بتایا کہ فیکٹری میں آگ پر قابو پانے کے بعد اسے ٹھنڈہ کرنے کے لیے پانی چھڑکا جارہا تھا، مگر عمارت تپش کی وجہ سے منہدم ہوگئی۔

انہوں نے بتایا کہ ایک فائر افسر امتیاز الحق اور چار فائر مین ملبے میں دبے ہوئے ہیں ۔ جن کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن کیا جارہا ہے۔

ریکسیو آپریشن کے لیے پاک فوج کی مدد حاصل کی گئی ہے۔

نہ فائر برگیڈ انتظامیہ اور نہ محکمہ صنعت اس کا تعین کر سکے کہ فیکٹری کو آگ کس طرح لگی۔

فائر بریگیڈ کے انچارج لیاقت ظفر فاروقی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس عملے کی اور جدید آلات کی کمی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انہیں جو آلات درکار ہیں وہ موجود نہیں نہ ہی وہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ہیں۔

محکمہ صنعت کے وزیر عادل صدیقی نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے، اور ایک بیان میں کہا کہ اس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائی گی۔

کراچی کے ناظم مصطفیٰ کمال نے فائرمینوں کے لواحقین کے لیے فی کس پانچ لاکھ رپے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں
آگ لگنے سے 26 افراد ہلاک
16 December, 2006 | پاکستان
کراچی دھماکے میں چار ہلاک
12 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد