چرچ میں آگ، پولیس کی تحقیق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس نے پنجاب کے ضلع خانیوال کی تحصیل میاں چنوں میں ایک چرچ میں لگنے والی آگ کے بارے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی طور پر پولیس نے کسی قسم کی مذہبی ’شرپسندی‘ کے امکان کو رد کر دیا ہے۔ میاں چنوں کے قصبے محسن وال کے گاؤں چک ایک سو چونتیس/ سولہ ایل میں واقع آپاسٹلک فیتھ چرچ میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب آگ بھڑک اٹھی تھی جس سے اندر پڑے ہوئے سامان میں سے فرنیچر اور فرش پر بچھی دریوں کو نقصان پہنچا تھا۔ تاہم آگ پر جلد ہی قابو پا لیا گیا تھا۔پولیس نے چرچ کے پادری نتھانیل برکت کی درخواست پر مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔پادری برکت نے اپنی درخواست میں ’محرکات‘ کے بارے کوئی تبصرہ کیئے بغیر پولیس کو صرف واقعہ کی اطلاع دی تھی۔ خانیوال کے ضلعی پولیس افسر فاروق مظہر نے بی بی سی کو بتایا کہ جس گاؤں میں یہ واقعہ پیش آیا ہے اس میں مسلمان اقلیت میں ہیں جبکہ اکثریت عیسائی افراد کی ہے جن میں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ دونوں شامل ہیں۔ جبکہ آپاسٹلک فیتھ پروٹسٹنٹ مسلک کا ہی ایک فرقہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گاؤں میں آپاسٹلک فیتھ کو ماننے والے بمشکل چند گھرانے ہیں اور ان کی عبادت گاہ بھی صرف ایک کمرے پر مشتمل ہے۔پادری برکت آگ لگنے کے وقت چرچ کے کمرے کے اندر ہی تھے۔ ضلعی پولیس افسر کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں کھوجیوں اور جاسوس کتوں کی مدد بھی لے گئی ہے جبکہ پولیس کے علاوہ خفیہ ایجنسیوں سمیت کئی اور حکومتی اداروں نے بھی اپنے طور پر اس واقعہ کے محرکات جاننے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چرچ کو آگ بہر حال اندر سے ہی لگی ہے کیونکہ باہر سے کسی کے ’حملہ آور‘ ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ انہوں نے بتایا کہ چرچ میں پڑے ایمپلی فائر سمیت بجلی کے دوسرے سامان کو بھی آگ لگی ہے جس سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ واقعہ ممکنہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے اتفاقیہ طور پر ہوا ہو۔ اس کے علاوہ مقامی مسیحی برادری میں بھی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ پادری برکت کو تین بار برخاست کیا گیا ہے لیکن انہوں نے چرچ کا قبضہ نہیں چھوڑا۔اسی طرح کچھ لوگ ان کے اس لیئے مخالف ہیں کہ گاؤں کی کچھ لڑکیوں نے اپنی مرضی سے شادیاں کیں اور پادری برکت نے چرچ میں ان سے ایجاب و قبول کرایا جبکہ ان کے والدین بھی ان تقریبات میں شامل نہ تھے۔ پادری برکت چرچ سے ملحقہ کریانے کی ایک چھوٹی سی دکان بھی چلاتے ہیں۔ ضلعی پولیس افسر کے مطابق دوسری طرف گاؤں میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان کسی قسم کا کوئی تنازعہ بھی نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ یا تو یہ ایک اتفاقیہ حادثہ ہے یا پھر مسیحی برداری کے اندرونی اختلافات کا نتیجہ ہے۔ | اسی بارے میں چرچ کی املاک بیچنے پر سزائیں 30 September, 2004 | پاکستان چرچ حملہ: تین افراد کو سزائے موت23 January, 2004 | پاکستان گرجاگھر نذرآتش، گرفتاریاں12 November, 2005 | پاکستان گرجا کی بے حرمتی، دو افراد گرفتار27 November, 2005 | پاکستان سکھرمیں دو چرچ نذر آتش19 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||