BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 24 December, 2006, 15:01 GMT 20:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈی آئی خان میں ہنگامے، چار ہلاک

ڈیرہ اسماعیل خان کو فرقہ ورانہ کشیدگی کی وجہ سے کافی حساس تصور کیا جاتا ہے
صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں اتوار کو پولیس کے مطابق ایک جنازے پر فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد ہلاک جبکہ پانچ زحمی ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق عیدگاہ کے علاقے میں ایک مقامی کونسلر کے بیٹے کے جنازے میں شریک چار افراد نے فائرنگ کردی جس سے چار افراد ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس نے مبینہ طور پر فائرنگ کرنے والے دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

یہ ہلاکتیں شہر میں دوسرے روز بھی ایک یونیورسٹی پروفیسر کے قتل کے خلاف جگہ جگہ جاری احتجاجی توڑ پھوڑ اور پتھراؤ کے دوران ہوئیں ۔

پینتالیس سالہ پروفیسر نزاکت علی ڈیرہ اسماعیل خان میں واقع گومل یونیورسٹی کے شعبہ ایم بی اے کے چیرمین تھے۔

ان کا تعلق فقہ جعفریہ سے تھا اور شاعر ہونے کے ساتھ وہ ذاکر بھی تھے۔

سنیچر کو یونیورسٹی سے واپسی پر انہیں موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر زخمی کر دیا۔ انہیں ہسپتال لے جایا جا رہا تھا لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔

پولیس کے مطابق اس کے بعد شہر میں مشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے دکانوں اور گاڑیوں پر پتھراؤ کیا اور سڑکوں پر ٹائر جلا کر انہیں بند کر دیا۔

شہر میں کشیدگی اتوار کو بھی برقرار رہی اور کئی مقامات سے توڑ پوڑ کی اطلاعات ملی ہیں۔ اس کے علاوہ وقفے وقفے سے شہر میں گولیاں چلنے کی آوازیں بھی سنی جاتی رہیں۔

پروفیسر نزاکت علی کو اتوار کی سہ پہر ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا۔

اس سے تین ماہ قبل ان کے بھائی لیاقت علی عمرانی بھی نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے تھے۔

علاقے میں پولیس کی مزید نفری تعینات کرنے کے علاوہ شہر میں دفعہ ایک سو چوالیس بھی نافذ کر دی گئی ہے جس کے تحت چار سے زائد افراد کے اکھٹا ہونے ہر پابندی ہوگی۔

فوج کو بھی سول انتظامیہ کی مدد کے لیے تیار رہنے کو کہا گیا ہے تاہم مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حالات قابو میں ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان کو فرقہ ورانہ کشیدگی کی وجہ سے کافی حساس تصور کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں
ڈی آئی جی بنوں ہلاک
18 December, 2006 | پاکستان
آگ لگنے سے 26 افراد ہلاک
16 December, 2006 | پاکستان
ڈی آئی خان: فرقہ وارانہ قتل
23 August, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد