سیالکوٹ کیس:دو قصوروار، 23 بری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوجرانوالہ میں انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے سیالکوٹ جیل میں چار ججوں کی ہلاکت کے مشہور کیس میں نامزد پچیس میں سے تئیس ملزمان کو بری کردیا ہے جبکہ دو جیل اہلکاروں کو پینتیس پینتیس برس کی سزا سنائی ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج مستقیم احمد نے فیصلہ سناتے ہوئے پولیس کارروائی کو ریسکیو آپریشن قرار دیا اور کہا کہ اس کارروائی کے نتیجے میں متعددافراد کی جانیں بھی بچی ہیں۔ بری ہونے والوں میں ڈی آئی جی گوجرانوالہ ملک اقبال، دو ضلعی پولیس افسران راجہ منور اور امجد سلیمی، ایلیٹ فورس کے انسپکٹر، گیارہ اہلکار، جیل سپرنٹنڈنٹ سکندر حیات، دو اسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل، دو وارڈن اور ایک قیدی شاہد عرف کالا کا بھائی شامل ہیں۔ جن دو جیل اہلکاروں کو پینتیس پینتیس برس قید کی سزا سنائی گئی ہے ان کی ڈیوٹی اسی جیل فیکٹری میں تھی جس سے باہر نکل کر قیدیوں نے ججوں کو یرغمال بنایا تھا۔ سزا پانے والے اسٹنٹ سپرٹنڈنٹ جیل راجہ مشتاق مشقت لینے والی فیکٹری کے انچارج تھے جبکہ وارڈن عبدالحفیظ بھی اسی فیکٹری میں تعینات تھے۔ عدالت نے کہا کہ ملزمان ان کی تحویل میں تھے اور انہی کی وجہ سے بیرک سے باہر آئے اور یہ المناک واقعہ پیش آیا۔ عدالت نے ان ملزمان کو قتل، اعانت قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت بالترتیب دس دس برس قید سنائی ہے۔ ججوں کو محبوس رکھنے کی دفعہ کے تحت چھ ماہ اور پندرہ سو روپے جرمانہ اور ایک جج پر قاتلانہ حملہ کرکے انہیں مضروب کرنے پر پانچ، پانچ برس قید اور دس، دس ہزار روپے جرمانہ سنایا ہے۔ تین مفرور ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا گیا ہے اور ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئےہیں۔ان تین مفرور ملزمان میں انسپکٹر پولیس ذوالفقار ورک، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل ملک افتخار اور ایک قیدی کا معظم نامی رشتہ دار شامل ہیں۔ جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ جیل کی سکیورٹی کانظام مناسب نہ ہونے کی وجہ سے پیش آیا تھا اور حکومت کو جیلوں کی سیکیورٹی بہتر بنانے پر ٰزور دینا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ متعلقہ افسروں کو باقاعدگی سے جیلوں کا دورہ کرنا چاہیے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ ہلاک ہونے والے جج صاحبان کی بیوگان اور بچوں کی فراخ دلی سے مدد کرے۔ سیالکوٹ جیل میں ججوں کی ہلاکت کا واقعہ ساڑھے تین برس قبل پیش آیا تھا جب سیالکوٹ جیل کے قیدیوں نے معائنے پر آئے ججوں کو یرغمال بنا لیا اور پھر پولیس کی فائرنگ اور جوابی فائرنگ سے چار جج ہلاک ہوگئے تھے جبکہ انہیں یرغمال بنانے والے پانچ قیدی بھی مارے گئے تھے۔ پولیس نے اس وقت کے سیشن جج محمد یوسف اوجلہ کے بیان پر مقدمہ درج کیا تھا جو بعد میں مقدمہ قتل میں تبدیل ہوگیا۔ اس مقدمہ میں ڈی آئی جی پولیس دو ضلعی پولیس افسران، ایلیٹ فورس کے ایک انسپکٹر اور ایس ایچ او سمیت پندرہ پولیس اہلکاروں،جیل سپرنٹنڈنٹ سمیت جیل کے سات اہلکار اور مقامی اسپتال کے ایک ڈاکٹر کو نامزد کیا گیا۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ پولیس نے فائرنگ کرنے کا غلط فیصلہ کیا تھا اور اسی کے باعث ہلاکتیں ہوئیں۔ اس مقدمہ کے وکیل استغاثہ ایک مقتول جج کے والد غلام عباس بخاری ہیں۔ انہوں نے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں بحث کو سمیٹتےہوئے پولیس پر ناقص تفتیش کرنے اور حقائق کو ضائع کرنے کے الزام لگائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جائے وقوعہ سے ایسی گولیوں کے خول ملے ہیں جو ایلیٹ فورس اور پولیس استعمال کرتی ہے اور جو وکیل استغاثہ کے بقول اس بات کی شہادت ہے کہ ہلاکتیں پولیس کی فائرنگ سے ہوئی تھیں۔ وکیل استغاثہ کا کہنا ہے کہ پولیس کو پیغام بھجوایا گیا تھا کہ وہ ہائی کورٹ کے جج اور سیشن جج کی اجازت کے بغیر آپریشن نہ کریں اور اگر ضرورت پڑے تو فوجی کمانڈوز کے ذریعے آپریشن کروایا جائے لیکن استغاثہ کے بقول ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس گوجرانوالہ ملک اقبال نے ہدایات کی خلاف ورزی کرتےہوئے آپریشن کیا اور جج ہلا ک ہوئے۔ وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ یہ ریسکیو آپریشن تھا اور کوئی کلنگ آپریشن نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمان نے بیالیس عورتوں اور بچوں سمیت بے گناہ افراد کو یرغمال بنا لیا تھا اور ان کی جانیں خطرے میں تھیں جو اس پولیس آپریشن کے نتیجےمیں بچ گئیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں وکیل صفائی کے مذکورہ دلیل سے بظاہر اتفاق کیاہے۔ | اسی بارے میں سیالکوٹ: عدالت سے چار قیدی فرار20 October, 2003 | پاکستان جیکب آبادجیل میں قیدیوں کا احتجاج29 October, 2004 | پاکستان سرگودھا جیل میں ہنگامہ، 9 زخمی03 September, 2004 | پاکستان قیدیوں کا کارنامہ 01 July, 2004 | پاکستان ’جوانی تو جیل میں کٹ گئی‘04 November, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||