سیالکوٹ دھماکہ، ملزمان بری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سیالکوٹ کی شیعہ جامع مسجد میں بم دھماکے سے تیس افراد کی ہلاکت کے مقدمے میں نامزد دو ملزموں کو بری کر دیا ہے۔ عدالت نے ملزموں کو بری کرتے ہوئے اپنے مختصر حکمنامے میں لکھا ’ملزموں کے خلاف جرم ثابت نہیں ہو سکا، استغاثہ کے مطابق مسجدِ زینبیہ میں ہونے والا خود کش حملہ تھا‘۔ استغاثہ کے مطابق دونوں ملزموں خواجہ ابراہیم اور عامر شہزاد کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی سے ہے اور انہیں چند مہینے پہلے ملتان کے قریب گرفتار کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں ان ملزمان پر یکم دسمبر کو فرد جرم عائد کی گئی اور تیزی سے مقدمے کی سماعت ہوئی، تیرہ دنوں میں سولہ گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ یہ تمام کارروائی سنٹرل جیل گوجرانوالہ کے کورٹ روم میں ہوئی۔ جیل حکام نے بدھ کو دونوں ملزموں کو سخت پہرے میں عدالت پیش کیا۔ عدالت نے مزید دو گواہوں میڈیکل افسر اور پولیس انسپکٹر کے بیانات قلمبند کیے اور وکلائے صفائی نے ان پر جرح کی دونوں اطراف کے وکلاء نے دلائل دیے جس کے بعد عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ان دونوں ملزموں کے خلاف جرم ثابت نہیں ہو سکا۔ ملزموں کے وکیل صفائی اصغر روکڑی نے بی بی سی کو بتایا کہ یکم اکتوبر سنہ دو ہزار چار کو سیالکوٹ کے مہاراجہ روڈ پر واقع جامع مسجد زینبیہ میں ہونے والے واقعہ کو ایک خود کش حملہ قرار دیا گیا تھا اور درج ایف آئی آر میں جس شخص کو نامزد کیا گیا وہ ایک اٹیچی کیس میں بارود لیکرنمازیوں میں شامل ہوا تھا اور دھماکے میں خود بھی ہلاک ہوگیا۔ پولیس نے بعد میں مقدمہ کے مدعی اور مسجد کے خطیب فیض علی کے ضمنی بیان کی روشنی میں ان دونوں ملزموں کو نامزد کیا تھا۔ وکیل صفائی نے بتایا کہ ’ملزمان عامر شہزاد اور خواجہ ابراہیم پر اعانت جرم اور سازش میں شریک ہونے کا الزام عائد کیا گیا لیکن عدالت میں جتنے بھی گواہ پیش کیے گئے وہ خود کش حملہ آوروں کے ساتھ ان دونوں ملزموں کا تعلق ثابت نہیں کر سکے۔‘ ملزمان نے اپنی درخواست میں یہ بھی کہا تھا کہ انہیں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایک ایسے مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے جس سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ پولیس کے ریکارڈ کےمطابق دونوں ملزموں کا تعلق بعض شدت پسند سنی مسلمانوں کی کالعدم جماعت لشکر طیبہ سے ہے اور پولیس کے بقول دونوں ملزمان پنجاب کے مختلف شہروں میں پر تشدد واقعات میں ملوث ہیں۔ چند مہینے پہلے ان کی گرفتاری ہوئی ہوئی تھی اور جامع مسجد زینبیہ کے مقدمہ کے سلسلے میں انہیں صوبائی حکومت کے حکم پر ملتان سے گوجرانوالہ منتقل کیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں سیالکوٹ:ملزمان پر فردِ جرم عائد18 December, 2004 | پاکستان سیالکوٹ:تدفین، مظاہرے، فوج طلب02 October, 2004 | پاکستان مظفرآباد میں نماز جنازہ، مظاہرے 02 October, 2004 | پاکستان سیالکوٹ: پولیس افسران معطل04 October, 2004 | پاکستان شیعہ مسجد میں دھماکہ: 10 ہلاک01 October, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||