کوئٹہ: دھماکے جاری، حکام خاموش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں پیر کو ایک مرتبہ پھر پر اسرار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں لیکن پولیس حکام اس بارے میں کوئی واضح جواب نہیں دے پا رہے۔ دوپہر کے وقت دو دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جن کی نوعیت اور ممکنہ اثرات کے بارے کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے حالیہ دورہِ کوئٹہ کے دوران بھی اسی قسم کے دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں۔ کوئٹہ میں شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے ان دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔ لیکن حکام اس بارے میں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ایک پولیس افسر نے بس اتنا تبصرہ کیا کہ ہو سکتا ہے یہ دھماکے فوجی مشقوں کے دوران ہوئے ہوں۔ صدر مشرف گذشتہ جمعرات کو جب تین روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچے تھے تو اس دن اور اس سے اگلے روز بھی اسی طرح کے دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں۔ تاہم ان دھماکوں سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے آزاد بلوچ نا می شخص نے ٹیلیفون پر صدر مشرف کے دورے کے دوران ہونے والے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا ’یہ راکٹ بی ایل اے نے داغے تھے‘۔ دریں اثناء گذشتہ روز جعفر آباد میں ایک بیل گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس سے ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا جبکہ سنیچر کو بھی اسی علاقے میں بارودی سرنگ کا دھماکہ ہوا، جس سے دو افراد معمولی زخمی ہوئے۔ | اسی بارے میں مشرف کے قیام کے دوران دھماکے09 December, 2006 | پاکستان مشرف بلوچستان کے دورے پر07 December, 2006 | پاکستان کوئٹہ سے 28 افغان باشندے گرفتار21 November, 2006 | پاکستان گوادر: مشرف کے دورے پر ہڑتال 16 November, 2006 | پاکستان کوئٹہ دھماکےمیں2 پولیس اہلکار ہلاک02 November, 2006 | پاکستان بلوچستان میں احتجاج09 May, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||