مرزا طاہر برطانیہ پہنچ گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی نژاد برطانوی شہری مرزا طاہر حسین راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے رہا ہو کرجمعہ کو رات گئے برطانیہ پہنچ گئے ہیں۔ برطانیہ پہنچنے پر ان کا ایک بیان ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے پرنس آف ویلز شہزادہ چارلس، برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر، پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف، برطانوی وزیر خارجہ مارگریٹ بیکٹ اور اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمشنر اور لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر ملیحہ لودھی کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بیان کی ابتدا میں خدا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے خاندان والوں سے آملے ہیں۔ دسمبر انیس سو اٹھاسی میں اٹھارہ سال کی عمر پاکستان جانے والے مرزا طاہرہ حسین اٹھار سال کی قید کاٹنے کے بعد برطانیہ اپنے گھر لوٹے ہیں۔ اسلام آباد میں وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ نے جمعرات کو مرزا طاہر کی رہائی کے بارے میں کہا تھا کہ صدر نے ان کی سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا تھا اور کیونکہ وہ عمر قید کی سزا پوری کرچکے اس لیے انہیں رہا کردیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مرزا طاہر حسین رہائی کے بعد ایک خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد سے برطانیہ پہنچے۔ مرزا طاہر حسین کو، جو ایک ٹیکسی ڈرائیور جمشید خان کے قتل کے الزام میں گزشتہ اٹھارہ برس سے جیل میں بند تھے، سزائے موت سنائی گئی تھی۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے جمعرات کے روز ان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔ ایوان صدر کے ایک سینئر افسر نے صدر کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وزیراعظم کی سفارش پر صدر نے مختلف عدالتوں کی جانب سے مختلف نتائج اخذ کرنے، طویل مدت تک قید رہنے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایسا کیا تھا۔ صدر کا یہ فیصلہ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے پاکستان پہنچنے سے تین روز قبل سامنے آیا ہے۔
وزارت داخلہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا تھا کہ اٹارنی جنرل کی مشاورت کے بعد وزیراعظم نے صدر کو سفارش کی تھی کہ مرزا طاہر کی سزا عمر قید میں تبدیل کی جائے۔ حکام کے مطابق ملزم کی رہائی کسی بھی وقت متوقع ہے۔ واضح رہے کہ برطانوی حکومت اور انسانی حقوق کے کئی اداروں نے بھی طاہر حسین کی موت سزا پر نظر ثانی کرنے کی اپیل کی تھی۔ مرزا طاہر حسین ٹیکسی ڈرائیور کے قتل سے انکار کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ٹیکسی ڈرائیور نے ان سے جنسی زیادتی کرنے کی کوشش کی تھی۔ ملزم مرزا طاہر حسین کی اپیل سپریم کورٹ رد کرچکی ہے اور صدر نے بھی ان کی رحم کی اپیل پہلے مسترد کردی تھی اور ان کی پھانسی پر چار بار عمل درآمد روک دیا تھا۔ ادھر مقتول ڈرائیور کے چچا صحبت خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صدر کے فیصلے کو پاکستانی عدالتوں کی توہین قرار دیا اور کہا کہ وہ اس بارے میں قانونی چارہ جوئی کے لیے اپنے وکیل سے مشاورت کریں گے۔ یاد رہے کہ مرزا طاہر کو معاف کرنے کے لیے مقتول کے اہل خانہ کے پاس حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین اور کئی جرگے گئے تھے۔ اہل خانہ کو خون بہا دینے سمیت مختلف مراعات کی پیشکش بھی کی گئی تھی لیکن انہوں نے معاف کرنے سے انکار کردیا تھا۔ | اسی بارے میں پھانسی کی سزا عمر قید میں تبدیل16 November, 2006 | پاکستان شہزادہ چارلز پاکستان پہنچ گئے29 October, 2006 | پاکستان چارلز: پشاور کا دورہ منسوخ31 October, 2006 | پاکستان مرزا کا مقدمہ: حصہ اول10 November, 2006 | آس پاس مرزا کا مقدمہ: حصہ اول10 November, 2006 | پاکستان مرزا کا مقدمہ: حصہ دوم10 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||