BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 November, 2006, 01:23 GMT 06:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور بم دھماکے، ملزمان کو سزا

لاہور میں دھماکہ کرنے والوں کا تعلق مبینہ طور پر کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی سے بتایا جاتا ہے۔
لاہور میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے گزشتہ سال شہر میں دو بم دھماکوں میں گیارہ افراد کو ہلاک کرنے کے الزام میں ایک شخص کو گیارہ مرتبہ سزائے موت اور دو مرتبہ عمر قید جبکہ دوسرے ملزم کو مجموعی طور پر تیرہ مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

یہ دونوں بم دھماکے لاہور میں بائیس ستمبر کی سہ پہر مینار پاکستان کے پاس لاری اڈہ اور اچھرہ بازار میں ایک گھنٹہ کے وقفے سے ہوئے تھے۔ ان دھماکوں میں گیارہ افراد ہلاک اور بیس سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

سزا پانے والے دونوں ملزموں۔ جان مقبول اور اصغر علی۔ کا تعلق بہاولپور سے ہے اور ان کا تعلق مبینہ بلوچستان لبریشن آرمی سے بتایا جاتا ہے۔

عدالت نے بم دھماکوں کے دیگر تین ملزموں عظیم بگٹی، ابراہیم بگٹی اور میر عابد بگٹی کو مفرور قرار دیتے ہوئے ان کے دائمی ورانٹ گرفتاری جاری کیے ہیں اور ان کی گرفتاری کے بعد ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔

لاہور بم دھماکوں کے چار دن بعد ہی پولیس نے ان کے ملزموں کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پولیس کے مطابق جان مقبول اور اصغر علی کو لاہور میں جناح ہسپتال کے باہر سے گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ بم سائیکلوں کے نیچے باندھے گئے ٹائم بموں کے ذریعے دیسی ساختہ بموں کو اڑانے سے کیے گئے تھے جو اس طریقہ کار سے بم دھماکے کرنے کا پہلا واقعہ تھا۔

جان مقبول پر سائیکل میں بم نصب کرکے وقوعہ کی جگہوں پر رکھنے کا الزام لگایا گیا تھا جبکہ اصغر علی پر اسےسائیکل مہیا کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

پولیس نے الزام لگایا تھا کہ ملزمان بلوچستان لبریشن آرمی کے ارکان ہیں اور انہوں نے یہ دھماکے اس لیے کیے کہ وہ ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے تھے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دونوں دھماکوں کے ملزموں کو دہشت گردی، آتش گیر مواد رکھنے اور متعددا افراد کو زخمی کرنے کے الزامات کا مجرم قرار دیتے ہوئے تعزیرات پاکستان کے تین متعلقہ قوانین کے تحت سزائیں سنائیں۔

عدالت نے جان مقبول کو اچھرہ بم دھماکہ میں آٹھ مرتبہ اور لاری اڈہ بم دھماکہ کیس میں تین مرتبہ سزائے موت سنائی اور اسے دونوں واقعات کے مقتولین کے گیارہ ورثا کو ایک ایک لاکھ روپے روپے اداکرنے کا حکم دیا۔ اسے پچاس ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم بھی دیاگیا۔

جج نے بم دھماکوں کے دوسرے ملزم اصغر علی کو اچھرہ کیس میں دس مرتبہ عمر قید اور لاری اڈہ کیس میں تین مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی اور دونوں مقدموں میں مجموعی طور پر پچاس ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔

سوموار کو لاہور بم دھماکوں کے الزام میں سزا پانے والے جان مقبول کو عدالت نے آتش گیر مادہ رکھنے کےالزام میں وحدت روڈ پولیس کے درج کیے گئے ایک اور مقدمہ میں بھی دو مرتبہ عمر قید اور پچاس ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔
اسی مقدمہ میں عدالت نے اس کے ایک اور شریک ملزم رانا الیاس کو بھی عمر قید اور پچاس ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔

مقدمہ کے سرکاری وکیل (پراسیکیوٹر) سردار نجیب کے مطابق واپڈا میں میٹر انسپکٹر کے طور پر ملازم رانا الیاس کا تعلق لاہور سے ہے اور وہ گرفتاری کے وقت گوجرانوالہ میں رہائش پذیر تھا۔

عدالت نے رانا الیاس کو مسلم ٹاؤن پولیس کے درج کیے گئے ایک تیسرے مقدمہ میں عمر قید اور ایک چوتھے مقدمہ میں چودہ سال قید با مشقت اور کی سزا سنائی۔

رانا الیاس پر الزام تھا کہ اس نے گزشتہ سال لاہور میں ایک بم دھماکہ کیا جس میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی جبکہ اس نے ایک اور بم دھماکہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام ہوگیا۔

اسی بارے میں
بم دھماکے: 5 ملزمان گرفتار
07 December, 2005 | پاکستان
لاہور: دو دھماکے، چھ ہلاک
22 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد