حرکت المجاہدین کے چار رکن بری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ کی ایک اپیلٹ بینچ نے چار سال قبل امریکی قونصل خانے پر حملے کے چار ملزمان کو بری کردیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں ناکافی شہادتوں کی بنیاد پر سزا دی گئی تھی۔ اس حملے میں چودہ پاکستانی ہلاک ہوئے تھے۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس رحمت حسین جعفری اور جسٹس یاسمین عباسی پر مشتمل بینچ نے منگل کو ملزم محمد حنیف، محمد عمران، محمد شارب اور حافظ زبیر کی اپیل منظور کرلی۔ ملزمان کا تعلق حرکت المجاہدین العالمی سے ہے۔ ان لوگوں پر الزام تھا کہ انہوں نے چودہ جون دو ہزار دو کو ایک خودکش حملے میں بارود سے بھری ایک گاڑی امریکی قونصل خانہ سے ٹکرادی تھی۔ حملے کے ایک ماہ بعد رینجرز نے چاروں ملزمان محمد حنیف، محمد عمران ، مامد شارب اور حافظ زبیر کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ملزمان پر انسداد دہشتگردی کی ایک عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور انہیں موت اور عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ اس سزا کے خلاف ملزمان محمد حنیف، محمد عمران ، مامد شارب اور حافظ زبیر نے سندھ ہائی کورٹ کی اپیلیٹ بینچ میں اپیل کی تھی۔ حملے میں جوگاڑی استعمال کی گئی تھی اس کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ حملے سے ڈیڑھ ماہ قبل صدر جنرل پرویز مشرف کی کراچی آمد کے موقع پر ان پر حملے کرنے کے لیئے تیار کی گئی تھی مگر عین وقت اس کے الیکٹرک سوئچ نے کام نہیں کیا۔ دو ملزمان حنیف اور عمران بعض اور مقدمات میں بھی ملوث ہیں جن میں سے کچھ میں انہیں سزا ہوچکی ہے۔ اس لیئے ان کی رہائی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ | اسی بارے میں حرکت العالمی کے رہنما کو سزائے موت 29 April, 2006 | پاکستان حرکت العالمی کا رکن گرفتار03 April, 2006 | پاکستان حرکت المجاہدین کے سربراہ پر تشدد29 March, 2006 | پاکستان دہشت گردی کے الزام میں سزا12 October, 2004 | پاکستان دہشت گردی: ایک اور مہم کیوں؟16 July, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||