اوول تنازع: سٹے بازی پر سوالات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے کھیل نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ہدایت دی ہے کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو خط لکھے کہ اوول ٹیسٹ تنازعے کے اہم کردار امپائر ڈیرل ہئر کے خلاف تحقیق کرے کہ کہیں وہ اوول ٹیسٹ کے دوران سٹے بازی میں ملوث تو نہیں تھے۔ پیر کے روز اسلام آباد میں سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے کھیل کا اجلاس اوول ٹیسٹ تنازعے کے اسباب پر غور کرنے کے لیئے منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے بھی شرکت کی۔ اپنے تقرری کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ وہ اس کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔ اجلاس میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر انور بیگ نے سوال اٹھایا کہ اوول ٹیسٹ میں پاکستان کی ٹیم کا پلا بھاری ہونے کے سبب سٹے بازوں نے 2-14 کا ریٹ رکھا تھا اس سے ان شکوک و شبہات کو تقویت ملتی ہے کہ کہیں انضمام الحق سٹے بازی میں ملوث تو نہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر نسیم اشرف نے جو کہ اوول ٹیسٹ تنازعے کے وقت پی سی بی کی ایڈ ہاک کمیٹی کے رکن کی حثیت سے وہاں موجود تھے اس بات سے انکار کیا اور کہا کہ اگر چہ ٹیم کو میدان میں واپس نہ لے جانے کا فیصلہ انضمام الحق کا ذاتی فیصلہ تھا تاہم سٹے بازی جیسے کسی معاملے میں ان کے ملوث ہونے کا امکان نہیں ہے۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ ڈیرل ہئر نے میچ کا فیصلہ انگلینڈ کے حق میں کرنے سے پہلے انضمام کو آگاہ نہیں کیا تھا اور بال ٹمپرنگ پر سزا دینے کے فیصلے کی طرح یہ فیصلہ بھی ڈیرل ہئر نے خود ہی لے لیا۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے سینیٹ کی کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ پہلے ہی ڈیرل ہئر کے خلاف 12 صفحات پر مشتمل شکایت نامہ انٹرنیشل کرکٹ کونسل کو بھجوا چکا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ڈیرل ہئر کے خلاف اوول ٹیسٹ کے تنازعے کی بابت مکمل تحقیقات کروائے اور اگر تحقیق میں وہ قصور وار ثابت ہوتے ہیں تو انہیں آئی سی سی کے امپائر پینل سے خارج کیا جائے۔ اجلاس کے بعد سینیٹ کی سٹیڈنگ کمیٹی کے چیر مین چوہدری ظفر اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ سینیٹ کی کمیٹی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو کہا ہے کہ آئی سی سی کو ایک خط اور لکھے جس میں اس معاملے کی تحقیق کرنے کے لیے کہا جائے کہ ڈیرل ہئر اوول ٹیسٹ کے دوران سٹے بازی میں تو ملوث نہیں تھے۔ اجلاس کے دوران پاکستان کی ٹیم کی چمپیئنز ٹرافی میں ناقص کارکردگی کے زمن میں کیے گئے سوال پر ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ کرکٹ بورڈ میں اور پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں پیشہ وارانہ زمہ داریوں کا فقدان ہے اور ان کی کوشش ہو گی کہ کرکٹ بورڈ کے تمام شعبوں اور ٹیم میں ہی صلاحیت پیدا کی جائے۔ |
اسی بارے میں ’ تھِنک ٹینک بنائیں گے‘30 October, 2006 | کھیل ڈاکٹر نسیم اشرف تنقید کی زد میں24 October, 2006 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||