BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آٹھ افراد گرفتار کیے گئے: وزیر داخلہ

راکٹ
راکٹ برآمد ہونے والے دن بھی کئی افراد کو عارضی حراست میں لیا گیا تھا (فائل فوٹو)
پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بتایا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے راولپنڈی اور اسلام آباد میں راکٹ دھماکے اور برآمد کیے جانے کے سلسلے میں آٹھ افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

جمعہ کو نیوز بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گرفتار شدگاں سے سیکورٹی فورسز ابھی پوچھ گچھ کر رہی ہیں اور ابتدائی تفتیش سے اشارے ملے ہیں کہ ان کا تعلق القائدہ سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام گرفتار شدگاں پاکستانی ہیں اور ان میں ان میں کوئی بڑا فراری ملزم شامل نہیں۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ ایوب پارک راولپنڈی میں ایک راکٹ پھٹہ تھا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی فوجی رہائش گاہ کے قریب واقع ایوب پارک سے ان کے مطابق چار راکٹ برآمد کرکے انہیں ناکارہ بنایا گیا۔

جبکہ وزیر نے کہا کہ پارلیمان اور آئی ایس آئی کے دفتر کے سامنے سے ملنے والے دو دوراکٹ بھی ناکارہ بنائے گئے اور یہ سیکورٹی فورسز کی اہم کامیابی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ان ملزمان کا ایک ہی گروہ ہے اور انہوں نے راولپنڈی اور اسلام آباد میں راکٹ نصب کرنے کے لیے گاڑی بھی ایک ہی استعمال کی۔ ان کے بقول ملزمان کی گرفتاری ان کے موبائیل فونز کو ’ٹریس، کرنے سے عمل میں آئی۔

وزیر نے کہا کہ اسلام آباد، راولپنڈی اور صوبہ پنجاب کے دیگر شہروں سے ان ملزمان کو سیکورٹی فورسز نے چھاپے مارکر گرفتار کیا۔ ان کے مطابق گرفتار شدگاں سے اسلحہ اور بارود بھی برآمد ہوا ہے۔

ایک اور سوال پر آفتاب شیر پاو نے بتایا کہ ملزمان سے تاحال ہونے والی پوچھ گچھ اور راکٹ نصب کیے جانے کا تجزیہ کرنے سے اب تک جو صورتحال سامنے آئی ہے اس سے لگتا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کو نشانہ نہیں بنایا گیا تھا بلکہ تباہی پھیلانا اور انارکی پیدا کرنا ان کا مقصد تھا۔
انہوں نے کہا کہ 107 mm کے یہ ٹینک شکن راکٹ روسی ساخت کے ہیں اور جس طرح نصب کیے گئے تھے وہ اگر چلتے تو کسی مخصوص حدف کو نشانہ نہیں بناتے بلکہ جہاں گرتے وہاں پھٹ سکتے تھے۔

وزیر نے بتایا کہ پارلیمان کے سامنے جو دو راکٹ برآمد ہوئے وہ موبائیل فون سے جڑے تھے اور ریموٹ کنٹرول سے چلائے جانے تھے۔ ان کے مطابق جو موبائیل فون وہاں سے ملے ان کے مالکان تک رسائی کے بعد ملزمان کو پکڑا گیا۔

صوبہ پنجاب کے شہر منڈی بہاؤالدین سے ایک فراری فوجی علی احمد اور اسلام آباد کے علاقہ گولڑہ کے رہائشی طالبعلم ندیم احمد یوسف کو راولپنڈی سےگرفتار کیے جانے کے سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ گرفتار شدگاں میں سے کسی کے نام کی تصدیق نہیں کرسکتے کیونکہ اس سے تفتیش متاثر ہوگی۔

ادھر انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار شدگاں کا تعلق ایک ایسی کاالعدم جماعت سے ہے جس کے کچھ لوگ پہلے بھی صدر جنرل پرویز مشرف پر حملوں میں پکڑے جاچکے ہیں۔

واضح رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی راولپنڈی میں واقع فوجی رہائش گاہ کے قریب ایوب پارک میں چار اکتوبر کو راکٹ دھماکہ ہوا تھا جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

اُس کے اگلے روز یعنی پانچ اکتوبر کو اسلام آباد میں پارلیمان اور ایوان صدر کے سامنے سیکورٹی فورسز نے دو راکٹ برآمد کیے تھے۔ جس بارے میں پولیس نے شبہہ ظاہر کیا تھا کہ موبائل فون سے جڑے وہ راکٹ صدر کے قافلے کو نشانہ بنانے کے لیے نصب کیے گئے تھے۔

جبکہ اس کے محض دو روز کے بعد پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے صدر دفتر کے سامنے دو مزید راکٹ ملے تھے۔ بم ڈسپوزل سکواڈ نے تمام برآمد ہونے والے راکٹ کو ناکارہ بنا دیا تھا۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ امریکہ زیر حراست آٹھ پاکستانیوں کو رہا کرنے پر آمادہ ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق گوانتانامو بے سے دو اور افغانستان کے شہر بگرام سے چھ پاکستانی رہا ہوکر آئندہ اتوار کو پاکستان پہنچ جائیں گے۔ ان کی رہائی کے بعد باقی قید پاکستانیوں کی تعداد گوانتانامو بے میں پانچ اور بگرام میں چودہ ہوگی۔

اسی بارے میں
پارلیمنٹ کے سامنے راکٹ ملے
05 October, 2006 | پاکستان
لاہور: مشتبہ دہشت گرد گرفتار
17 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد