آصف اقبال کا کرکٹ بورڈ پر الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان آصف اقبال نے پاکستانی کرکٹ بورڈ کو کپتان تنازعے پر مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ یونس خان کو انضمام الحق کی غیر موجودگی میں کپتانی کرنے کے لیئے کہا گیا تھا مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ اس پر کرکٹ بورڈ نے کپتانی کے فرائض محمد یوسف کو سونپ دیئے۔ مگر سابق کپتان آصف اقبال نے اس سارے تنازعے کی وجہ پاکستانی کرکٹ بورڈ کو قرار دیا ہے۔ آصف اقبال نے کہا ہے کہ’پی سی بی نے کھلاڑیوں کی تربیت میں اپنا کردار نہیں نبھایا۔ اسی لیئے وہ نہیں جانتے کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔ کرکٹ بورڈ صرف اس واقعے کا ہی ذمہ دار نہیں بلکہ گزشتہ دنوں ہونے والے مسئلے کی ذمہ داری بھی کرکٹ بورڈ پر ہے‘۔ آصف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’یہ سارا مسئلہ تربیت کا ہے۔ یہ کرکٹرز بین الاقوامی کھلاڑی ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کے سفیر بھی ہیں۔ ان کے لیئے صرف اتنا کافی نہیں کہ میدان میں جا کر سکور بنائیں یا وکٹیں حاصل کریں بلکہ انہیں اپنی نمائندگی کے ساتھ ساتھ وطن کی نمائندگی بھی دھیان میں رکھنی چاہئیے‘۔ اگست میں انگلینڈ کے خلاف کھیلے جانے والے چوتھے ٹیسٹ میں میدان میں نہ آنے پر انضمام پر چار بین الاقوامی میچوں کی پابندی لگائی گئی ہے۔ اسی لئیے یونس خان سے کہا گیا کہ آئندہ ہونے والی آئی سی سی چمپیئن ٹرافی میں انضمام کی غیر موجودگی میں وہ کپتانی کے فرائض انجام دیں مگر انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ ’ڈمی کپتان‘ نہیں بننا چاہتے۔ آصف اقبال نے اس پر کہا ہے کہ’مجھے نہیں لگتا کہ اس بات کا تعلق ’ڈمی کپتان‘ سے ہے بلکہ اس کا تعلق کسی ایسی بات سے ہے جو ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی۔ جس وقت یونس کی کپتانی کا اعلان کیا گیا تھا اس وقت فوراً انھیں انکار کر دینا چاہئیے تھا۔ ظاہر ہے کہ اس اعلان کے بعد ایسا کچھ ہوا ہے کہ یونس نے انکار کر دیا۔ یہ پاکستانی کرکٹ کی بدقسمتی ہے‘۔ خیال ہے کہ یونس خان کا یہ فیصلہ ان کے چند ساتھیوں سے اختلاف کی وجہ سے ہوا ہے۔ مگر آصف اقبال کا اس معاملے میں کہنا ہے کہ یونس کے اس فیصلے سے پاکستانی کرکٹ کے امیج کو ٹھیس پہنچی ہے۔ پاکستانی کوچ باب وولمر کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ ’یونس کے اس فیصلے سے پتا چلتا ہے کہ درست رویے کی کمی ہے اور اگر ہم دنیا کو شکست دینا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے رویے کو بدلنا ہو گا‘۔ باب وولمر کے مطابق’میں یونس خان کے لیئے ٹیم کے سامنے ڈٹ گیا مگر اس کے انکار نے مجھے افسردہ اور مایوس کر دیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ کپتانی کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ جو بھی ہوتا ہے وہ اچھے کے لیئے ہوتا ہے لیکن ہمیں جلدی سیکھنا ہو گا کیونکہ پاکستانی عوام کی بہت سی توقعات کرکٹ ٹیم سے وابستہ ہیں اور ورلڈ کپ بھی نزدیک آرہا ہے‘۔ باب وولمر نے مزید کہا ’انضمام نے اب تک ٹیم کو اکٹھا رکھنے کا کام کیا ہے مگر انضمام ہمیشہ موجود نہیں رہے گا اور ہمیں اس کے بغیر عادت ڈالنا ہو گی۔ چیمپیئن ٹرافی میں پاکستان کا پہلا میچ جے پور، انڈیا میں سترہ اکتوبر کو ہوگا۔ پاکستان کا نیوزی لینڈ سے میچ پچیس اکتوبر اور ساؤتھ افریقہ سے ستائیس اکتوبر کو ہو گا۔ | اسی بارے میں یونس کےا نکار سے یوسف کی تقرری تک05 October, 2006 | کھیل کپتانی:انضمام شہریارملاقات05 October, 2006 | کھیل ڈمی کپتان نہیں بنناچاہتا: یونس05 October, 2006 | کھیل چیمپیئنزٹرافی، حفاظتی انتظامات06 October, 2006 | کھیل پاکستان ناں، یارکشائرہاں: یونس06 October, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||