بلوچستان: بم دھماکہ، 5 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر رکھنی میں زور دار دھماکے سے پانچ افراد ہلاک اور کم سے کم دس زخمی ہوئے ہیں۔ یہ دھماکہ رکھنی بازار میں سول ہسپتال کے قریب ہوا ہے۔ دھماکہ اس قدر زور دار تھا کہ کئی زخمیوں کے بازو اور ٹانگیں ٹوٹ گئی ہیں۔ پولیس نے بتایا ہے کہ یہ بم ہسپتال کے قریب ایک کچریدان میں رکھا گیا تھا۔ رکھنی تھانے میں موجود پولیس اہلکار نے بتایا ہے کہ زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں لے جایا گیا ہے اور اکثر کو ڈیرہ غازی خان پہنچایا گیا ہے۔ رکھنی ضلع بارکھان کی تحصیل ہے جو یہاں کوئٹہ سےتقریباً تین سو کلومیٹر دور مشرق میں واقع ہے۔ رکھنی اور بارکھان میں پہلے بھی بم دھماکے ہو چکے ہیں جن میں کچھ لوگ زخمی ہوئے ہیں لیکن یہ دھماکہ سب سے زور دار سمجھا جاتا ہے۔ اس سال جون میں یہاں ایک دھماکہ ہوا تھا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا جبکہ مئی کے مہینے میں پولیس تھانے کے پاس دھماکہ ہوا تھا جس میں ایک شخص زخمی ہو گیا تھا۔ بارکھان کے جنوب میں کوہلو اور ڈیرہ بگٹی کے اضلاع واقع ہیں لیکن پولیس حکام نے کہا ہے کہ اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہاں ان دھماکوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ یاد رہے گزشتہ روز لورالائی میں کوئٹہ پولیس نے جا کر ایک مکان پر چھاپہ مارا تھا جس میں ایک ڈی ایس پی سمیت تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے تھے۔ یہ چھاپہ کوئٹہ کے قریب کچلاک میں ایک گاڑی پکڑے جانے کے بعد لگایا گیا تھا ۔ اس گاڑی میں دو طاقتور بم نصب تھے اور پولیس نے ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ یہ گاڑی لورالائی کے اسی مکان میں تیار کی گئی تھی جہاں پولیس نے چھاپہ لگایا ہے۔ | اسی بارے میں بلوچستان میں پہیہ جام ہڑتال 06 September, 2006 | پاکستان رؤف مینگل نے استعفیٰ دے دیا06 September, 2006 | پاکستان کوئٹہ میں ہڑتال جاری06 September, 2006 | پاکستان ’بگٹی مشرف کی ایما پر قتل ہوئے‘07 September, 2006 | پاکستان بلوچستان: چھاپے میں3 افراد ہلاک07 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||