BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 September, 2006, 15:42 GMT 20:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ میں ہڑتال جاری

کوئٹہ
کوئٹہ میں ہڑتال حزب اختلاف کی جماعتوں کی اپیل پر کی گئی
بلوچستان میں آج نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت اور ان کی میت ورثا کے حوالے نہ کرنے کے خلاف متحدہ حزب اختلاف کی اپیل پر شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی۔

بلوچستان کے اکثر اضلاع میں دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی۔ اہم شاہراہوں پر مختلف مقامات پر مظاہرین نے روڈ بلاک کیئے قلات خضدار اور حب کے مقامات پر کوئٹہ کو کراچی سے منسلک کرنے والی شاہراہ بلاک کی گئی جبکہ کوئٹہ سے جیکب آباد کے راستے لاہور جانے والی شاہراہ ڈیرہ اللہ یار اور دیگر مقامات پر بند کی گئیں۔

کوئٹہ میں ہڑتال کے دوران بازار اور بڑی شاہراہیں ویران پڑی تھیں ۔ علاقے میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے لیکن کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کوئٹہ غلام محمد تیبو نے بتایا ہے کہ جب سے یہ تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں کوئٹہ میں تب سے کوئی چھ سو افراد کو گرفتار کیا گیا تھا لیکن بے گناہ لوگوں کو چھوڑ دیا گیا ہے اور اب پولیس کی تحویل میں کوئی دو سو لوگ ہیں جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

بلوچستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاج اور ہڑتال کی گئی

یہ ہڑتال حزب اختلاف کی جماعتوں کی اپیل پر کی گئی جن میں اپنے آپ کو محکوم کہلوالنے والی قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پونم، اتحاد برائے بحالئی جمہوریت یعنی اے آر ڈی اور عوامی نیشنل پارٹی شامل ہیں۔ متحدہ اپوزیشن نے تین ستمبر سے احتجاجی مہم کا آغاز کیا ہے اور یہ ہڑتال اسی تحریک کا حصہ ہے۔

نیشنل پارٹی کے لیڈر اور رکن صوبائی اسمبلی رحمت بلوچ نے کہا کہ کامیاب ہڑتال سے ثابت ہو گیا ہے کہ بلوچستان کے لوگ مرکزی حکومت کی پالیسیوں کو نہ صرف ناپسند کرتے ہیں بلکہ ان پالیسیوں پر سخت غصہ میں ہیں۔

بلوچستان کے دیگر اضلاع جیسے گوادر تربت پسنی اروماڑہ اور پنجگور میں مکمل ہڑتال رہی۔ پنجگور سے تحصیل ناظم رحمدل بلوچ نےبتایا کہ قوم پرست لیڈروں کے خلاف یہاں مقدمات درج کیئے گئے ہیں۔ مکران ڈویژن کے کچھ علاقوں میں لوگوں نے ریلیاں نکالی ہیں۔

ڈیرہ مراد جمالی سبی نوشکی دالبندین اور دیگر علاقوں میں ہڑتال رہی جبکہ حب میں لوگوں نے ٹائر جلا کر روڈ بلاک کر دی۔

صوبے کےشمالی علاقوں میں بھی آج ہڑتال کی گئی ۔ قلعہ عبداللہ میں دکانیں بند رہیں جبکہ شمالی علاقوں کی طرف جانے والی شاہراہ کو کچلاک کے مقام پر بلاک کیا گیا ہے جہاں مقامی قائدین نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

اسی بارے میں
احتجاج پر متعدد گرفتاریاں
05 September, 2006 | پاکستان
قلات: الیکشن آفس نذرِ آتش
05 September, 2006 | پاکستان
بلوچستان میں پہیہ جام ہڑتال
06 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد