BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 September, 2006, 13:14 GMT 18:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یوم دفاع، اپوزیشن کی فوج پر تنقید

پاکستان ہر سال چھ ستمبر کو یوم دفاع مناتا ہے
پاکستان کے یوم دفاع کے موقع پر قومی اسمبلی میں حزب مخالف کے اراکین نے فوج پر تنقید کی اور یہ دن منانے پر حکومت اور حزب مخالف کے اراکین کا ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔

انیس سو پینسٹھ میں بھارت کے ساتھ جنگ کے بعد پاکستان ہر سال چھ ستمبر کو یوم دفاع مناتا ہے اور اس بار بھی اس موقع پر خصوصی تقریبات منعقد کی گئی تھیں۔ فضائیہ نے اپنے لڑاکا طیارے اڑانے کا مظاہرہ بھی کیا۔

متحدہ مجلس عمل کے رکن فرید احمد پراچہ کی نشاندہی پر سپیکر قوی اسمبلی نے انیس سو پینسٹھ کی جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے لیئے فاتح کرائی۔ انہوں نے کہا کہ اس ایوان سے یہ پیغام دینا چاہیئے کہ فوج کو اقتدار پر قبضہ کرنے کے بجائے اپنے پیشہ ورانہ فرائض ادا کرنے چاہئیں۔

جس پر متحدہ قومی موومنٹ کے اسرار العباد نے کہا کہ فوج اپنی ذمہ داری پوری کر رہی ہے اور مذہبی سیاستدانوں کو اپنا فرض پورا کرنا چاہیئے اور لوگوں کو شیعہ سنی کے چکر میں لڑانا نہیں چاہیئے۔

اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی اعتزاز احسن نے کہا کہ فتح وہ فوجیں مناتیں ہیں جو جنگ جیتتی ہیں۔ پاکستان کے سپاہی جو جنگ جیتے ہیں وہ جرنیل بات چیت میں ہار کر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوے ہزار فوجی بھارت میں قید کیئے گئے۔ ان کے مطابق جو کچھ پینسٹھ میں حاصل ہوا تھا وہ اس وقت کے فوجی حکمرانوں نے طشتری میں رکھ کر بھارتی وزیراعظم کو پیش کردیا تھا۔

انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کے دورہ افغانستان کا ذکر کرتے ہوئےکہا کہ وہ کروڑوں روپے خرچ کرکے ان کی پارلیمان سے خطاب کرنے جارہے ہیں جبکہ اپنی پارلیمان سے خطاب کرنے کے لیئے سیڑھیاں اترنے کو تیار نہیں۔

کسی نے دھکہ نہ لگایا۔۔
 لاہور کی ایک سڑک پر ایک باوردی کرنل کی گاڑی بند ہوگئی اور لوگ اُسے دھکہ لگانے کے لیئے تیار نہیں تھے۔
راجہ نادر پرویز

مسلم لیگ نواز کے راجہ نادر پرویز نے کہا کہ فوج پاکستان کے وقار کی علامت ہے اور اس کا کھویا ہوا وقار بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کی سیاست میں مداخلت کے بعد ان کا وقار کم ہوا ہے۔

انہوں نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ لاہور کی ایک سڑک پر ایک باوردی کرنل کی گاڑی بند ہوگئی اور لوگ اُسے دھکہ لگانے کے لیئے تیار نہیں تھے۔

راجہ نادر پرویز نے کہا کہ یحیٰ خان نے کہا تھا کہ وہ بنگال میں آخری گولی اور سانس تک لڑیں گے لیکن بارہ گھنٹے میں ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ ان کے مطابق اب فوج کے ساتھ تعاون کا قوم میں وہ جذبہ نہیں رہا جو انیس سو پینسٹھ کے وقت تھا جب لوگ بندوقیں لے کر سرحد پر پہنچے تھے۔

جس پر آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اور وزیر تعلیم لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اشرف نے کہا کہ فوج نے ملکی سرحدوں کے دفاع کے لیئے بے انتہا قربانی دی ہے اور ہر سال شہیدوں کی یاد منائی جاتی ہے اور ہر زندہ قوم اپنی فتح کا جشن مناتی ہے۔

انہوں نے سیاستدانوں پر نکتہ چینی بھی کی اور کہا کہ یہی لوگ ان کے پاس آتے تھے کہ فلاں حکومت خراب ہے اُسے نکالیں۔

ڈاکٹر شیرافگن نیازی نے کہا کہ ہم اپنی کوتاہیوں سے آدھا ملک گنوا چکے ہیں اب متحد ہوکر ایک پیغا دینا چاہیئے کہ ہم بطور قوم یکجا ہیں۔

اسی بارے میں
صوبائی خود مختاری پر اتفاق
05 September, 2006 | پاکستان
بلوچستان میں پہیہ جام ہڑتال
06 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد