صوبائی خود مختاری پر اتفاق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی میں حکومت اور حزب مخالف نے آئین میں شامل ’کنکرنٹ لسٹ‘ ختم کرنے پر اتفاق کرلیا ہے اور سپیکر نے اس بارے میں آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی کی قانون اور انصاف کے متعلق قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا ہے۔ منگل کو ایوان کی نجی کارروائی کا دن ہوتا ہے۔ آئین میں ترمیم کا یہ بل حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن مجیب پیرزادہ نے پیش کیا جس کی پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن خان نیازی نے مخالفت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اس فہرست کو پہلے ختم ہونا چاہیئے تھا کیونکہ اس سے صوبوں کو مزید اختیارات ملیں گے۔ حکومت اور حزب مخالف میں آئینی معاملات پر اتفاق کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے، خاص کر ان دنوں جب فریقین میں نواب بگٹی کی ہلاکت کے بعد تناؤ پایا جاتا ہے۔ ایسے میں اس عمل کو بعض سیاسی تجزیہ کار ایک بڑی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے اس مجوزہ بل کی حزب مخالف اور حکومتی اتحاد کی تمام جماعتوں نے منظور کرنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے صوبوں کو خودمختاری ملے گی اور ان کا سینتالیس موضاعات پر قانون سازی کا اختیار حاصل ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے مجوزہ بل میں کہا گیا ہے کہ گورنر کی تقرری کا اختیار صدر کو نہیں ہونا چاہیئے اور اس طریقہ کار کو تبدیل کیا جائے اور آئندہ کسی بھی صوبے میں گورنر کی تعیناتی کے لیئے متعلقہ صوبے کی اسمبلی اور پارلیمان کی منظوری حاصل کی جائے۔ گورنر کی مدت تین برس ہونی چاہیئے۔ تجویز کردہ ترمیم کے مطابق گورنر کا امیدوار رکن قومی اسمبلی بننے کا اہل ہو اور ان کی عمر پینتیس برس سے کم نہیں ہونی چاہیے۔ نئے طریقہ کار کے مطابق گورنر اگر مستعفی ہونا چاہیں تو وہ چیئرمین سینیٹ کو اپنا استعفیٰ پیش کریں گے۔
پیپلز پارٹی نے یہ بھی تجویز کیا ہے کہ سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی سے وصول ہونے والی رقم صوبوں کو دی جائے اور نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ ایعنی ’این ایف سی ایوارڈ‘ ختم کیا جائے۔ مجوزہ آئینی بل میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ مفادات کی کونسل میں قومی اسمبلی کے چار اراکین کو شامل کیا جائے تاکہ اس ایوان کو وفاق اور صوبوں کے برابر نمائندگی مل سکے۔ مجیب پیرزادہ نے بعد میں بی بی سی کو بتایا کہ انیس سو تہتر میں جب آئین منظور ہوا تھا تو اس وقت کنکرنٹ لسٹ میں سینتالیس ایسے معاملات شامل کیئے گئے تھے جس کے متعلق قانون سازی کا اختیار صرف وفاق کو حاصل ہے۔ ان کے مطابق یہ فہرست صرف دس برس کے لیئے قابل عمل رہنی تھی لیکن اس کے بعد سے آج تک اُسے ختم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ضابطہ فوجداری، طلاق اور شادیوں کے متعلق قوانین، املاک کی منتقلی اور زکوۃ وغیرہ سمیت سینتالیس موضوعات کے بارے میں اگر کسی صوبے کا کوئی قانون وفاق کے قانون سے متصادم ہو تو وفاقی قانون کو آئین کے مطابق سبقت حاصل ہے۔ لیکن ان کے مطابق اس ترمیم کے بعد ان معاملات میں وفاق کے بجائے صوبوں کو قانون سازی کا حق حاصل ہوگا۔ پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیر افگن نیازی نے کہا کہ یہ انتہائی اہم بل ہے اور کافی عرصے سے صوبوں کا مطالبہ رہا ہے کہ کنکرنٹ لسٹ ختم ہونی چاہیئے۔ ان کے مطابق وہ حزب مخالف کے اراکین کے ساتھ مل بیٹھ کر متفقہ متن والا بل تیار کریں گے۔ | اسی بارے میں ایم ایم اے: استعفے بِل سے مشروط05 September, 2006 | پاکستان مینگل استعفیٰ پیش نہ کرسکے05 September, 2006 | پاکستان حدود کےترمیمی بل پرخدشات برقرار05 September, 2006 | پاکستان ’متحدہ اپوزیشن ہڑتال کرےگی‘31 August, 2006 | پاکستان ’حکومتی جرگے کا فیصلہ قبول نہیں‘31 August, 2006 | پاکستان بلوچستان: حالات معمول کی طرف 31 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||