BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 September, 2006, 10:27 GMT 15:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد: فائرنگ کے خلاف حکومتی مہم

ہوائی فائرنگ
صوبہ سرحد میں ہوائی فائرنگ کو روکنے کے لیے مہم چلائی جا رہی ہے۔
صوبہ سرحد کی حکومت نے ہر سال صوبے میں ہوائی فائرنگ سے بڑی تعداد میں ہونے والی ہلاکتوں کی روک تھام اور اس سلسلے میں عوام میں شعور پیدا کرنے کے لیئے خصوصی دس روزہ مہم چلانے کا آغاز کیا ہے۔

یکم ستمبر سے شروع ہونے والی اس دس روزہ مہم کا انعقاد محکمہ داخلہ، محکمہ اطلاعات اور پولیس مشترکہ طور پر کر رہی ہیں۔

پشاور میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات آصف اقبال داؤدزئی کا کہنا تھا کہ اس مہم کو کامیاب بنانے کےلیئے عوامی نمائندوں، علماء کرام اور غیر سرکاری تنظیموں کی خدمات بھی حاصل کی جائینگی۔

انہوں نے کہا کہ اس مہم کے دوران صوبے کے تمام تھانوں میں سیمنارز منعقد کئے جائیں گے جس میں عوامی نمائندوں ، باآثر شخصیات اور سماجی کارکنوں کی مدد سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہوائی فائرنگ کے نقصانات سے متعلق آگاہ کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر نے ہوائی فائرنگ سےمتعلق ایک عالم دین مولانا حسن جان کے فتوی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’اس فتوے کے مطابق ہوائی فائرنگ سے جان بحق ہونے والہ شہید اور فائرنگ کرنے والا قاتل قرار دیا جاتا ہے اور اس کے عمل پر دیت لازم ہوجاتی ہے جس کی اسلام میں سو اونٹوں کی برابر رقم اور دو ماہ تک مسلسل روزے رکھنے کی سزا مقرر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی قوانین کے تحت ہوائی فائرنگ کی سزا ایک سال قید اور دس ہزار روپے جرمانہ مقرر ہے جس میں اضافہ کرنے کے لیئے صوبائی حکومت نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جلد از جلد اس بارے میں ڈرافٹ تیار کرے تاکہ اس بارے میں قانون سازی کی جاسکے۔

صوبہ سرحد کے مختلف شہروں اور دیہات میں ہوائی فائرنگ کرنا ایک معمول بن گیا ہے۔ پشتونوں کے علاقوں میں شادی بیاہ یا دیگر خوشی کے مواقعوں پر ہوائی فائرنگ کو فخر سمجھا جاتا ہے۔بعض لوگ اس کو پشتونوں کی ثقافت سے بھی جوڑتے ہیں۔

صوبہ سرحد میں ہر سال ہوائی فائرنگ کے واقعات میں بڑی تعداد میں بے گناہ لوگ ہلاک و زخمی ہوتے ہیں۔ان واقعات میں اضافے کی ایک بڑی وجہ غیر لائسنس شدہ اسلحہ کی بھر مار، مقامی پولیس کی غیر موثر حکمت عملی اور ملکی قوانین پر عمل درآمد کا فقدان بتایا جاتا ہے ۔

پشاور میں ایک مقامی صحافی انورعلی بنگش کا کہنا ہے کہ ہوائی فائرنگ میں اکثر اوقات باآثر لوگ ملوث ہوتے ہیں اور یہی وہ بڑی وجہ ہے کہ پولیس ان باآثر افراد کے خلاف کارروائی کرنے سے کتراتی ہے جس کی وجہ سے اس لعنت پر قابو پانا مشکل ہورہا ہے۔

صوبہ سرحد میں ہر سال ہوائی فائرنگ کے سینکڑوں مقدمات درج ہوتے ہیں لیکن قانونی ماہرین کے مطابق ملکی قوانین غیر موثر ہونے کی وجہ سے اکثر ملزمان سزا سے بچ جاتے ہیں ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد